تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے چائے پینے والوں میں شریانوں کی بیماریوں کا خطرہ چائے نہ پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد کم پایا گیا۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں چائے پینے کے شوقین افراد موجود ہیں جو اس کے بغیر دن کا تصور بھی نہیں کر سکتے تاہم ایک نئی تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ چائے پینے کا طریقہ کار براہ راست دل کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
امریکی طبی جریدے جرنل آف انٹرنل میڈیسن میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق تحقیق میں چین کے بائیوبینک ڈیٹا سے 4 لاکھ 85 ہزار 934 افراد کو شامل کیا گیا، جن کا اوسطاً 9.05 سال تک جائزہ لیا گیا۔ اس دوران شریانوں اور قلبی و دماغی خون کی نالیوں سے متعلق بیماریوں کے 14 ہزار 863 نئے کیسز سامنے آئے۔
رپورٹ کے مطابق باقاعدگی سے چائے پینے والوں میں مجموعی طور شریانوں کی بیماریوں کا خطرہ 11.2 فیصد کم تھا۔ ہفتہ وار چائے پینے والوں میں روزانہ تقریباً 6 سے 8 کپ چائے کے استعمال کے ساتھ سب سے کم خطرہ دیکھا گیا، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کے لیے اتنی چائے پینا ضروری یا مفید ہے۔
New article! Habitual #tea consumption is associated with lower #cardiovascular disease risk.
➡️Tea consumption combined with non-smoking and high physical activity was associated with the lowest risk.
🔗https://t.co/IWHJRqOLRi
#physicalactivity #smoking #teaconsumption https://t.co/jmyQWpXUL5
— JIM – Journal of Internal Medicine (@JInternMed) October 21, 2026
تحقیق میں چائے کی قسم اور اسے پینے کے طریقے کے حوالے سے بھی فرق سامنے آیا۔ کالی چائے کا بیماریوں کے کم خطرے سے تعلق سبز چائے کی نسبت زیادہ مستقل تھا، جبکہ معتدل گاڑھی چائے کے استعمال کے ساتھ بھی نسبتاً کم خطرہ دیکھا گیا۔
گرم چائے پینے کے نقصانات
تحقیق میں ایک انتہائی اہم نکتہ یہ سامنے آیا ہے کہ چائے کا درجہ حرارت بہت معنی رکھتا ہے۔ جو لوگ بہت زیادہ گرم چائے پینے کے شوقین ہوتے ہیں ان میں امراض قلب کا خطرہ کم ہونے کے برعکس 16 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برعکس اعتدال میں رہ کر اور نیم گرم چائے پینا دل کی صحت کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔
تحقیق میں طرز زندگی کے دیگر عوامل بھی اہم ثابت ہوئے۔ باقاعدگی سے چائے پینے، تمباکو نوشی نہ کرنے اور زیادہ جسمانی سرگرمی رکھنے والے افراد میں بیماریوں کا خطرہ سب سے کم تھا۔ اس گروپ میں خطرہ ان عوامل کے تقابل کے لیے استعمال ہونے والے گروپ کے مقابلے میں تقریباً 45 فیصد کم تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ چائے پینے کی مقدار، اس کی قسم، درجہ حرارت اور طرز زندگی کو ایک ساتھ دیکھنا شریانوں کی صحت کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔

