یوکرین نے روس کے ساتھ جنگ کے محاذ پر 491 دن گزارنے والے اپنے ایک شدید زخمی فوجی کو ڈرون کی مدد سے بحفاظت ریسکیو کرلیا، جسے اپنی نوعیت کا منفرد آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یوکرینی فوج کی 92ویں اسالٹ بریگیڈ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ خارکیو کے علاقے میں ایک بڑا ڈرون زخمی فوجی کو ہوا میں اٹھا کر لے جا رہا ہے جبکہ فوجی اہلکار مانیٹرنگ روم سے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرتے دکھائی دیتے ہیں، آپریشن کی کامیابی پراہلکارایک دوسرے کو مبارکباد بھی دیتے ہیں۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ وہ ویڈیو کے مقام اور تاریخ کی آزادانہ طور پرتصدیق نہیں کرسکا تاہم 19 اکتوبر 2026 سے قبل انٹرنیٹ پراس ویڈیو کا کوئی وجود نہیں ملا۔
ریسکیو کیے گئے 49 سالہ فوجی کوسٹیانٹن ولاسینکو کا تعلق یوکرین کی 30ویں میکانائزڈ بریگیڈ سے ہے اس نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ محاذ پراپنی پوزیشن پر 491 دن تک بڑی حد تک اکیلا رہا اور اس دوران شدید مشکلات کا سامنا کیا۔
BREAKING:
Ukraine has carried out the first evacuation in history of a wounded soldier from the frontlines by an aerial drone https://t.co/6vnOve3BKH
— Visegrád 24 (@visegrad24) October 19, 2026
ولاسینکو کے مطابق اسے ریسکیو کرنے کی کوشش کے دوران اس کے 2 ساتھی فوجی بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تاہم ٹانگوں پر شدید زخموں کے باوجود وہ اپنی پوزیشن پر موجود رہا۔
فوجی نے بتایا کہ روسی فورسز کو یقین تھا کہ وہ اسے ہلاک کرچکی ہیں لیکن وہ زندہ رہا اوراکتوبر میں ریسکیو کیے جانے تک ایک چھوٹے سے بوائلر روم میں چھپا رہا۔
رپورٹ کے مطابق ڈرون کے ذریعے فوجی کو نکالنے کے اس غیرمعمولی آپریشن کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد جنگ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اورزخمی اہلکاروں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے نئے طریقوں پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ڈرونز پہلے ہی نگرانی، حملوں اور رسد کی فراہمی کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں تاہم کسی شدید زخمی فوجی کو اس انداز میں نکالنے کا واقعہ غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔



