کویت نے ایرانی سفارت خانے کا بیان ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف قرار دے دیا۔
کویت نے بدھ 28 اکتوبر 2026 کو ایرانی سفیر کو طلب کرکے ایرانی سفارت خانے کے ایک بیان پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، کویتی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایرانی سفارت خانے کا بیان ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ سفارتی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایرانی سفارت خانے نے کویت کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ ایرانی شہری خلیجی ریاست کی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور بعض افراد کو قتل کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث تھے۔
کویتی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ملک کی عدالتوں کی جانب سے جاری کیے گئے فیصلوں میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔
وزارت نے ایران پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی پابندی کرے، بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات اور باہمی احترام کے اصول کو ملحوظ رکھے۔
دوسری جانب ایرانی سفارت خانے نے کویت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا، ایران کا مؤقف ہے کہ ایرانی شہریوں کے مبینہ طور پر سازش میں ملوث ہونے کے الزامات قابلِ قبول نہیں۔
Kuwait’s Ministry of Foreign Affairs, represented by Deputy Minister of Foreign Affairs Hamad Sulaiman Al-Mashaan, on Wednesday summoned Iranian Ambassador to Kuwait Muhammad Tutunji.
In a statement, the Kuwaiti Foreign Ministry said that the Iranian envoy was handed a protest note regarding a statement issued by the Embassy of Iran in Kuwait on Wednesday, and what it contained of blatant interference in the internal affairs of the State of Kuwait, and an affront to its sovereignty and the independence of its judicial authority, in flagrant violation of international laws and norms.
The Deputy Minister of Foreign Affairs renewed Kuwait’s rejection and strong condemnation of any interference in the judicial rulings issued by its national courts, the ministry said.
He further emphasized the necessity for the Iranian side to abide by the provisions of international law and the United Nations Charter, particularly the principles of good neighborliness and non-interference in the internal affairs of states, in addition to the provisions of the Vienna Convention on Diplomatic Relations of 1961, the ministry indicated.
— KUWAIT TIMES (@kuwaittimesnews) October 28, 2026
خلیج ٹائمز کے مطابق یہ تنازع کویت کی ایک عدالت کی جانب سے تین افراد کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، ان افراد کو ایران کے لیے جاسوسی، لبنانی تنظیم حزب اللہ سے وابستگی اور کویتی اعلیٰ حکام کو قتل کرنے کی مبینہ سازش سمیت مختلف الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایرانی شہری کے ملوث ہونے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سفارت خانے نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ ایرانی شہری گزشتہ دس برس سے کویت میں موجود نہیں رہا۔ سفارت خانے نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ایرانی شہریوں کے خلاف ایسے دعوے دونوں ممالک کے درمیان اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کے منافی ہیں۔
بيان صادر عن سفارة الجمهورية الإسلامية الإيرانية في الكويت
ترفض سفارة الجمهورية الإسلامية الإيرانية في الكويت رفضًا قاطعًا الادعاء الذي طرحته الحكومة الكويتية بشأن تورط أحد المواطنين الإيرانيين في مخطط لاغتيال شخصيات أو في أي عمل آخر من شأنه المساس بالأمن الوطني الكويتي، وتذكّر بأن الشخص المذكور لم يسبق له الوجود في الكويت خلال السنوات العشر الماضية.
وإذ تعرب سفارة الجمهورية الإسلامية الإيرانية في الكويت عن بالغ أسفها لاستمرار النهج السلبي تجاه إيران، الذي يتجلى، من بين أمور أخرى، في تكرار سيناريوهات واهية ومستهلكة بشأن تدخل إيران في الشؤون الكويتية، فإنها تؤكد أن توجيه مثل هذه الاتهامات الباطلة إلى المواطنين الإيرانيين يتعارض مع مبدأ حسن الجوار ويخالف القوانين الدولية.
وفي ظل ما تشهده منطقتنا من تداعيات خطيرة ناجمة عن العدوان العسكري الأمريكي والإسرائيلي على إيران، فإن المتوقع من دول المنطقة أن تنتهج سياسات مسؤولة وحكيمة تحول دون تفاقم الفتن المفروضة على المنطقة بأسرها.— Embassy of Iran in Kuwait (@IRAN_in_KUWAIT) October 28, 2026
کویت نے تین افراد کو سزائے موت کیوں سنائی؟
کویت کی اسٹیٹ سکیورٹی اینڈ ٹیررازم کرائمز کورٹ نے 26 اکتوبر کو مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تین افراد کو سزائے موت اور آٹھ دیگر ملزمان کو پانچ، پانچ سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔
ایران انٹرنیشنل کے مطابق عدالتی کارروائی سے متعلق رپورٹس کے مطابق مقدمے میں ایران کے لیے جاسوسی، قومی مفادات کو نقصان پہنچانے، حزب اللہ سے وابستگی اور اعلیٰ حکام کے خلاف مبینہ سازش کے الزامات شامل تھے، مبینہ منصوبے کا ایک ہدف کویت کے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ شیخ فہد الیوسف الصباح بھی تھے۔ سزائے موت کے فیصلے حتمی نہیں اور ان کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔
دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں
کویت اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی تنازع کو خلیجی خطے میں وسیع تر سکیورٹی کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق مئی 2026 میں کویت نے چار افراد کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ قرار دیتے ہوئے گرفتار کرنے کی اطلاع دی تھی۔ ایران نے واقعے کی اپنی وضاحت پیش کرتے ہوئے کویتی مؤقف سے اختلاف کیا۔
جون 2026 میں کویت نے ایرانی حملوں کے بعد ایرانی سفارت خانے کے عملے میں کمی اور دو ایرانی سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
جولائی 2026 میں آبنائے ہرمز میں کویتی آئل ٹینکر پر حملے کے بعد بھی کویت نے ایرانی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔
پس منظر اور اہمیت
کویت اور ایران کے درمیان یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خلیجی خطے میں سکیورٹی، علاقائی اثرورسوخ اور باہمی اعتماد سے متعلق معاملات اہمیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کویت کی جانب سے ایرانی سفیر کو طلب کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ حکومت اس معاملے کو محض ایک بیان کا تنازع نہیں بلکہ اپنی خودمختاری اور عدالتی امور سے متعلق مسئلہ سمجھتی ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے الزامات مسترد کیے جانے کے بعد معاملہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اختلاف کی صورت اختیار کرگیا ہے، اس تنازع کے آئندہ اثرات کا انحصار دونوں حکومتوں کے ردعمل اور مزید سفارتی اقدامات پر ہوگا۔



