ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی سفارتکاری سے بے اعتنائی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ اعتراف کہ انہیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر کبھی یقین نہیں تھا اور وہ اسے وقت کا ضیاع سمجھتے تھے، ان کے سفارتی وعدوں کی کھوکھلی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔
ٹرمپ نے مسیسیپی میں انتخابی ریلی کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو وقت کا ضیاع قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ایران کے ساتھ کیے گئے اس عبوری معاہدے پر کبھی اعتماد نہیں تھا۔ امریکی انتظامیہ نے اس سے قبل جولائی 2026 میں ہی اس ڈیل کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
اسماعیل بقائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ واشنگٹن کی وعدوں سے انحراف کی ایک طویل تاریخ ہے اور جب بھی بین الاقوامی ذمہ داریاں اس کے لیے غیر موزوں ہو جاتی ہیں، وہ انہیں نظرانداز کرنے سے گریز نہیں کرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک اور واشنگٹن کے دیگر حامیوں کے پاس امریکی بدعملی پر پردہ ڈالنے اور اسے جواب دہی سے بچانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
Washington’s contempt for diplomacy is once again laid bare. President Trump’s admission that he never believed in the Islamabad MoU and considered it a waste of time exposes the hollowness of their diplomatic commitments.
For Iran, this is nothing new. Washington has a long record of reneging on its commitments and treating international obligations as disposable whenever they become inconvenient.There is absolutely no justification for European states and other apologists for Washington to continue whitewashing U.S. misconduct and shielding it from accountability.
Broken commitments cannot be excused, international law cannot be applied selectively, and no amount of political spin can absolve Washington of accountability.
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) October 28, 2026
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ وعدہ خلافیوں کو جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا، بین الاقوامی قانون کا اطلاق امتیازی بنیادوں پر نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی سیاسی بیانیے بازی کے ذریعے واشنگٹن کو جواب دہی سے مستثنیٰ کیا جا سکتا ہے۔
خیال رہے جون 2026 میں پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے 14 نکاتی عبوری معاہدہ طے پایا تھا، جس پر صدر ٹرمپ اور صدر پزشکیان نے الیکٹرانک دستخط کیے تھے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے معاہدے پر بطور ثالث دستخط کیے تھے۔ تاہم چند ہی ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ فوجی تناؤ بڑھنے کے باعث یہ معاہدہ عملاً ختم ہو گیا۔



