امریکا نے ایران کے خلاف ممکنہ بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری ملنے پر 96 گھنٹوں کے اندر حملے شروع کیے جاسکتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر مجوزہ حملہ پہلے کی محدود فوجی کارروائیوں سے زیادہ وسیع ہوسکتا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے تاحال حملے کا حتمی حکم جاری نہیں کیا۔
ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات ممکنہ اہداف
رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ اور پینٹاگون ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے اہداف کی فہرست تیار کر رہے ہیں۔ ان میں ایرانی فوجی تنصیبات، جوہری مراکز اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہوسکتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق خطے میں ممکنہ کارروائی کے لیے کافی فوجی وسائل تعینات کیے جاچکے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے امریکی فوجی حکمت عملیوں سے متعلق بڑھتی ہوئی واقفیت کے باعث تمام مطلوبہ اہداف کو تباہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
سی این این کے مطابق امریکی حکام کا خیال ہے کہ کارروائی کا فیصلہ کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے، تاہم اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد متوقع ہے۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹرمپ ماضی میں فوجی کارروائیوں کی حمایت کے اشارے دینے کے بعد آخری وقت میں اپنا ارادہ تبدیل کرتے رہے ہیں۔
نیتن یاہو کی ایران پر مشترکہ حملے کے لیے کوشش
سی این این کی رپورٹ میں امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر مشترکہ حملے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل گزشتہ ہفتے سے امریکا پر زور دے رہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کی حمایت کرے اور ضرورت پڑنے پر مشترکہ کارروائی میں بھی حصہ لے۔ تاہم امریکی صدر اور اعلیٰ حکام نے اسرائیل کو انتظار کرنے کا کہا۔
US forces in the Middle East are prepared to launch new, potentially major, military operations against Iran “within 96 hours of receiving” an order from President Donald Trump, according to two US officials. https://t.co/jtUlvDmP9h https://t.co/WzGmojsprb
— CNN (@CNN) October 26, 2026
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کے ارادے اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی کہا ہے کہ اس کی توجہ انتخابات کے دوران سکیورٹی انتظامات پر ہے اور اس سے منسوب دیگر قیاس آرائیاں گمراہ کن ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بھی سی این این کی رپورٹ مسترد کردی، جبکہ رپورٹ پر امریکی حکومت کا باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایران اور حوثیوں کی ممکنہ جوابی کارروائی کا خدشہ
امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران اور یمن کے حوثی گروپ امریکا اور ممکنہ طور پر اسرائیل کی جانب سے نئے حملوں کے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
امریکی حکام کا اندازہ ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو تہران اور حوثی گروپ جوابی کارروائی کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اہلکاروں اور تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہے، جبکہ تنازع خطے سے باہر بھی پھیل سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس حکام ایران اور حوثیوں کی جانب سے پیشگی حملے کے امکان کو فی الحال کم قرار دیتے ہیں، تاہم ایران پر حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کا خطرہ برقرار ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی سفارتی عملے کی تعداد کم کرنے کی تیاری
ممکنہ فوجی کشیدگی کے پیش نظر امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارتی عملے کی تعداد کم کرنے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
سی این این کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے کے عملے کو غیر ضروری اہلکاروں کی روانگی سے متعلق ہدایات دی جاچکی ہیں، جبکہ خطے کے دیگر سفارتی مراکز میں بھی ایسے اقدامات کیے جانے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ معمول کی تعیناتی کے تحت مشرق وسطیٰ بھیجے جانے والے امریکی فوج کے بعض غیر ضروری اہلکاروں کی روانگی بھی روک دی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کی سرگرمیاں جاری
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اتوار کو آبنائے ہرمز کا دورہ کیا، جہاں امریکی فوج ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھنے اور اہم سمندری راستے پر جہاز رانی میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
سینٹرل کمانڈ کے مطابق بریڈ کوپر نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاقے کی صورت حال کا جائزہ لیا اور ان اہلکاروں سے ملاقات کی جنہوں نے سمندری راستے سے ایرانی بارودی سرنگیں ہٹانے کے عمل میں حصہ لیا۔
بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکا خلیجی شراکت داروں اور بحری جہاز رانی کی صنعت کے ساتھ کھڑا ہے۔ جبکہ دورے کا مقصد آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت یقینی بنانے کے امریکی عزم کو ظاہر کرنا تھا۔
آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں اضافے کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی اور سمندری راستوں میں رکاوٹوں کے خدشات بھی توانائی کی عالمی تجارت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔



