ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی پابندیوں کو ”اقتصادی دہشت گردی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے خطرہ ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔ جس سے پوری دنیا ہی متاثر ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی اہمیت کے باعث خطے میں فوجی تناؤ تیل و گیس کی ترسیل، عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں کو متاثر کر رہا ہے۔
ایرانی میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق ماسکو میں منگل کو گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (جی ای سی ایف) کے آٹھویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں سے توانائی کی تنصیبات تباہ ہوئیں اور توانائی کی ترسیل کا نظام متاثر ہوا، جس کے اثرات عالمی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خلیج فارس میں امریکہ کی فوجی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی اور معاشی ترقی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر ایران کے خلاف سیاسی مذاکرات کے دوران دو مرحلوں میں فوجی کارروائیاں کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
🔴 Iran’s President Pezeshkian addressing the 8th Summit of Gas Exporting Countries Forum.
🔺 President Pezeshkian calls for multilateralism, dialogue among member states of GECF. https://t.co/urVGsUXIFm
— Press TV 🔻 (@PressTV) October 27, 2026
امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی پر تنقید
ایرانی صدر نے امریکی اقتصادی پابندیوں، بحری و فضائی ناکہ بندی اور دیگر ممالک پر ان پابندیوں کی پیروی کے لیے دباؤ ڈالنے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ان اقدامات کو ”اقتصادی دہشت گردی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے عالمی توانائی کی منڈیوں کا استحکام شدید متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے بڑے توانائی فراہم کرنے والے ممالک کو ان اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے اور توانائی کی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔
عالمی توانائی تعاون بڑھانے پر زور
ایرانی صدر نے جی ای سی ایف کو کثیرالجہتی توانائی سفارت کاری کا اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی گیس مارکیٹ میں استحکام، تجارت کے فروغ اور تکنیکی تعاون کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔
انہوں نے کہا کہ گیس کی پیداوار سے لے کر ترسیل اور استعمال تک تمام مراحل میں مشترکہ سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ جبکہ ماحولیاتی اثرات کم کرنے اور عالمی طلب و رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بھی رکن ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
ایران کی گیس پیداوار اور سرمایہ کاری کی پیشکش
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران جی ای سی ایف کا بانی رکن ہے اور قدرتی گیس کے ثابت شدہ ذخائر کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنی مقامی صلاحیتوں کے ذریعے قدرتی گیس کی پیداواری استعداد بڑھا کر 300 ارب مکعب میٹر تک پہنچا دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران دنیا کا تیسرا بڑا قدرتی گیس پیدا کرنے والا ملک ہے، جبکہ ملک کی مجموعی توانائی کھپت میں قدرتی گیس کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے اور 95 فیصد آبادی قومی گیس نیٹ ورک سے منسلک ہے۔
ایرانی صدر نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا جغرافیائی محل وقوع اور اہم توانائی گزرگاہوں سے قربت اسے عالمی توانائی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔
مسعود پزشکیان نے خطاب کے اختتام پر زور دیا کہ جی ای سی ایف کے رکن ممالک مشترکہ منصوبوں اور تعاون کے ذریعے توانائی کی فراہمی و طلب میں توازن، قدرتی گیس کی منصفانہ قیمتوں اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں۔
اجلاس میں روس، ایران، قطر اور دیگر گیس پیدا کرنے والے ممالک کے نمائندوں نے عالمی توانائی کی سلامتی، گیس کی تجارت اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔



