ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا ناکہ بندی اور جارحیت بند کر دے تو آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔
بھارٹی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا جنگ کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس نے ناکہ بندی کا قدم اٹھایا۔ سمندری راستہ کوئی ایسا راستہ نہیں ہے جس پر ہماری زندگی کا مکمل انحصار ہو، امریکا اپنے اس طریقے میں بھی کامیاب نہیں ہو گا۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ پیر کے روز مسقط میں ایران، عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہو گا تاکہ ان کی موجودگی میں آبنائے ہرمز میں مشترکہ راستے سے متعلق عمان اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کو مطلع کیا جا سکے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ اس اجلاس میں ان ممالک کے وزرائے خارجہ موجود ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تھا۔
علاوہ ازیں نئی دہلی میں مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور کاروباری افراد سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی عوام ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور کبھی دشمن کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔ آج ایران بیک وقت اسرائیل، امریکا کے خلاف کامیابی سے کھڑا ہونے میں کامیاب رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایک ہی لمحے میں اسکول کے 168 بچوں کو شہید کیا، آپ ہمیں دہشتگرد کہتے ہیں؟ آپ کا کیا جو انسانوں کو قتل کرتے ہیں۔
مسعود پزشکیان نے امریکا او راسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ سائنسدانوں کو بمباری کا نشانہ بناتے ہیں اور اسکولوں، اسپتالوں پر حملے کرتے ہیں؟ اگر آپ میں ہمت ہے تو صرف فوجیوں اور فوجی اہلکاروں سے لڑیں۔ آپ بنیادی ڈھانچے، لوگوں کے روزگار اور ذریعہ معاش کو کیوں نشانہ بناتے ہیں؟۔
واضح رہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان جمعے کو بھارت پہنچے تھے، جہاں وہ برکس ممالک کے ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، ان کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع جاری ہے۔



