ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران اور خلیج فارس کے ممالک کی تقدیر مشترک ہے اور خطے کے تمام ممالک ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے جہاں علاقائی تعاون کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں آبی راستوں کے غلط استعمال اور بیرونی طاقتوں کی زیادتیوں کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گا اور خلیجی خطے کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیج فارس کا مستقبل امریکہ کے بغیر ہوگا اور خطہ اپنی خودمختاری کے ساتھ عوام کی خوشحالی کی طرف آگے بڑھے گا۔
دشمن ممالک کو آبنائے ہرمز میں داخل نہیں ہونے دیں گے یہ ہماری قومی مزاحمت کی علامت ہے، ایرانی صدر
سپریم لیڈر نے کہا کہ آبنائے ہرمز ماضی میں عالمی طاقتوں کی لالچ کا مرکز رہی ہے اور مختلف ادوار میں بیرونی قوتیں اس خطے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی رہی ہیں تاہم ایران نے ہر مشکل وقت میں ثابت قدمی اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی کی خرابی کی بنیادی وجہ امریکی فوجی موجودگی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کے ممالک میں قائم امریکی اڈے عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے اور حتیٰ کہ امریکی اڈے اپنی حفاظت کی مکمل صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کی سختی سے حفاظت کرے گا کیونکہ ایرانی عوام انہیں قومی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران ان دفاعی صلاحیتوں کو اپنی زمینی، فضائی اور بحری سرحدوں کی طرح محفوظ رکھے گا اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
