یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری راس تنورہ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ کر دیا، جبکہ ریفائنری کمپلیکس میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ حملے کے بعد خطے میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے اور وسیع تر علاقائی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے منگل کو دعویٰ کیا کہ راس تنورہ ریفائنری کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کمپلیکس میں آگ لگ گئی۔ یہ ریفائنری خلیج کے ساحل پر آبنائے ہرمز کے مغرب میں واقع ہے اور اس کی یومیہ پیداواری صلاحیت 5 لاکھ 50 ہزار بیرل ہے۔ سعودی حکام نے فوری طور پر حملے کی تصدیق نہیں کی۔
بلومبرگ نیوز نے عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ سعودی حکام نے راس تنورہ کے ٹرمینل کے قریب لگنے والی آگ پر قابو پالیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران جنگ کے ابتدائی مہینوں میں بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر اس ریفائنری کو کچھ عرصے کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
حوثیوں نے سعودی عرب کے شہر نجران کے ہوائی اڈے پر دو فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں اور خمیس مشیط میں ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا۔ تاہم ان حملوں کی سعودی عرب کی جانب سے فوری تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب سعودی دارالحکومت ریاض میں منگل کی سہ پہر مختصر وقت کے لیے فضائی حملے کا الرٹ جاری کیا گیا۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت کے اتحاد نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔
حوثیوں نے باب المندب کے قریب سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پیش قدمی ناکام بنانے کا دعویٰ بھی کیا۔
واضح رہے کہ باب المندب آبنائے بحیرہ احمر میں عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے ساحلی علاقوں سے حوثیوں کو پیچھے دھکیل دیا تھا، جن پر انہوں نے ستمبر میں قبضہ کیا تھا۔
حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے یمن کے شہر المخا پر سعودی فضائی حملوں کی اطلاع بھی دی، تاہم سعودی حکام کی جانب سے اس کی فوری تصدیق نہیں کی گئی۔
یمن اور سعودی عرب کے درمیان تازہ لڑائی نے 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کو بھی متاثر کر دیا۔ ایران جنگ کے آٹھ ماہ بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے خدشات مزید بڑھا دیئے ہیں۔
دوسری جانب گزشتہ روز پیر کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے حکام نے تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کی، جس کا مقصد علاقائی کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر بات چیت کرنا تھا۔
اس سے قبل مصر کی پارلیمنٹ نے بھی سعودی عرب کی درخواست پر اس کی دفاعی مدد کے لیے اپنی فوج کو اجازت دے دی ہے، مصر نے اس سے قبل ان تینوں ممالک کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کرنے کا بھی عندیہ دیا تھا۔


