بھارت کے مشرقی ساحلی علاقوں میں شدید سمندری طوفان ’ارناب‘ کے خطرے کے پیش نظر ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا جبکہ متعدد ٹرین سروسز منسوخ اور ساحلی علاقوں میں احتیاطی تدابیر کے تحت کاروباری مراکز بند کر دیئے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھارتی حکام کے حوالے سے بتایا کہ بدھ کو طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے، جس کے باعث تیز ہواؤں اور شدید بارشوں کا خدشہ ہے۔
بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال میں بننے والا سمندری طوفان ارناب پیر سے مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
آندھرا پردیش اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر پرکھر جین نے رائٹرز کو بتایا کہ پیر کی رات تک خطرے سے دوچار علاقوں سے تقریباً 50 ہزار افراد کو امدادی مراکز میں منتقل کیا جا چکا تھا، مجموعی طور پر 4 لاکھ افراد کے انخلاء کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ لوگوں کی منتقلی کا عمل اب بھی جاری ہے۔
دوسری جانب ریاست اڑیسہ کے خصوصی ریلیف کمشنر راجیش پربھاکر پاٹل کے مطابق اب تک ریاست میں انخلاء کا عمل شروع نہیں کیا گیا تاہم طوفان کے خدشے کے پیش نظر پانچ اضلاع میں منگل اور بدھ کے روز اسکول اور کالج بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ریلوے حکام کے مطابق بھارت کے مشرقی حصے میں کم از کم 12 ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جنوبی ساحلی علاقوں کے 53 روٹس پر منگل اور بدھ کے روز ٹرین سروس معطل رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ادھر پڑوسی ملک نیپال میں حکام نے سیاحوں کو بلند پہاڑی علاقوں کا رخ کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ طوفان ارناب جمعرات کی رات سے ہفتے تک ہمالیائی خطے میں شدید بارشوں، برفانی طوفانوں اور برفانی تودے گرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
نیپال میں یہ خطرہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک اگست میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے بعد بحالی کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس سیلاب میں تقریباً 1,500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
خلیج بنگال دنیا کے ان اہم خطوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سمندری طوفان کثرت سے جنم لیتے ہیں، جس کے باعث بھارت کا مشرقی ساحل ایسے موسمی خطرات کی زد میں رہتا ہے۔


