بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان اور دیگر 10 ملزمان کے خلاف 26 نومبر احتجاج کیس میں چوتھی مرتبہ محفوظ فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔
انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے فیصلہ مؤخر کر دیا، جو اب 26 نومبر کو سنایا جائے گا۔ سماعت کے موقع پر علیمہ خان نظر بند ہونے باعث پیش نہ ہو سکیں جبکہ مقدمے کے دیگر تمام 10 ملزمان کمرہ عدالت موجود تھے۔
تھانہ صادق آباد میں درج 26 نومبر 2024 کے احتجاج کیس میں مجموعی طور پر 87 افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ ان میں سے 9 ملزمان اعترافِ جرم کے بعد سزا پا چکے تھے، جبکہ 66 مفرور قرار دیے گئے تھے۔ علیمہ خان سمیت 11 ملزمان مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔
انسداد دہشتگردی عدالت میں سماعت کے موقع پر وکیل صفائی فیصل محمود ملک اور پراسیکیوٹر بھی موجود تھے۔
استغاثہ کے تمام گواہان پر جرح اور تمام کاروائی مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو ایک بار پھر موخر کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ 26 نومبر 2024 کو پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی، انتخابی مینڈیٹ کی بحالی اور دیگر مطالبات کے لیے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا۔ جس کے بعد علیمہ خان کے خلاف تھانہ صادق آباد پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔
استغاثہ کی جانب سے علیمہ خان پر احتجاج سے متعلق مبینہ منصوبہ بندی اور عمران خان کے پیغام کی ترسیل میں کردار ادا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے، جبکہ دفاع کی جانب سے مقدمے اور دہشتگردی کی دفعات کے اطلاق پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ عدالت نے دسمبر 2025 میں علیمہ خان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
دوسری جانب علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک کا مؤقف رہا ہے کہ ان کا کردار عمران خان کا پُرامن احتجاج سے متعلق پیغام پہنچانے تک محدود تھا اور اس بنیاد پر دہشتگردی کی دفعات عائد کرنا درست نہیں۔



