پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی غیر فعال ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کو پبلک آرڈر قانون (تھری ایم پی او) کے تحت گرفتار کرنے سے روک دیا، جبکہ ان کی سرکاری رہائش گاہ سیل کرنے کا انتظامی نوٹیفکیشن بھی معطل کر دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے غیر فعال ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی سمیت دیگر کو سرکاری گھر خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ثریا بی بی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے گرفتاری سے روکنے کے احکامات جاری کیے۔ عدالت نے صوبائی چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور درخواست میں نامزد دیگر حکام سے جواب بھی طلب کرلیا۔
ثریا بی بی کے وکیل یاسر خٹک نے عدالت کو بتایا کہ ان کی مؤکلہ کو جون 2024 میں پشاور میں سرکاری رہائش گاہ الاٹ کی گئی تھی اور صوبائی قانون کے تحت وہ ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر برقرار رہنے تک اس رہائش گاہ میں رہنے کی حق دار ہیں۔
وکیل کے مطابق 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پولیس نے ان کی مؤکلہ کی سرکاری رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، جبکہ 14 اکتوبر کو حکام نے پیشگی اطلاع یا قانونی جواز کے بغیر رہائش گاہ کو سیل کردیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ بذات خود کسی منتخب آئینی عہدے دار کی سرکاری رہائش گاہ سیل کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
درخواست میں کہا گیا کہ رہائش گاہ سیل کیے جانے سے ثریا بی بی اپنی ذاتی اشیا اور سرکاری دستاویزات تک رسائی سے محروم ہوگئی ہیں۔
عدالت سے استدعا کی گئی کہ اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے کر رہائش گاہ تک رسائی بحال کرنے کا حکم دیا جائے۔
وکیل نے واضح کیا کہ ان کی مؤکلہ کسی قانونی کارروائی سے استثنیٰ نہیں چاہتیں، بلکہ رہائش گاہ میں مبینہ غیر قانونی مداخلت اور حراست کے خدشے کے خلاف تحفظ مانگ رہی ہیں۔
درخواست میں عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی کہ پولیس اور ضلعی حکام کو تھری ایم پی او کے تحت ثریا بی بی کو گرفتار یا حراست میں لینے سے روکا جائے۔
واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے ثریا بی بی کو سرکاری گھر خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ جس پر ثریا بی بی کی جانب سے رہائش گاہ خالی کرنے، گھر پر چھاپے مارنے اور گرفتاری سے روکنے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔
سرکاری گاڑی سے متعلق الگ مقدمہ بھی درج
ثریا بی بی کو سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے کے معاملے میں بھی الگ مقدمے کا سامنا ہے۔ اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر کی شکایت پر ضلعی انتظامیہ کی گاڑی واپس نہ کرنے کے الزام میں ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 406 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ سرکاری رہائش گاہ سیل کرنے اور تھری ایم پی او کے تحت ممکنہ کارروائی سے متعلق درخواست سے الگ ہے۔
واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے تازہ احکامات رہائش گاہ سیل کرنے کے اقدام یا خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ نہیں ہیں۔ عدالت نے متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا ہے، جس کے بعد مقدمے میں مزید کارروائی ہوگی۔



