تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے علی زمان ایڈووکیٹ کی وساطت سے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر کے جمہوری حکومت ختم کر دی گئی، انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت صوبے میں جمہوری حکومت بحال کرے گی۔عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدامات کو کالعدم قرار دیا جائے۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عدالت سے جلد سماعت کی استدعا کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم آئینی اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دو دور ہوئے تھے جس میں پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے حوالے سے حکومتی شرائط ماننے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد گورنر خیبرپختونخوا کی درخواست پر صدر آصف علی زرداری نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کر دیا تھا۔
قومی اسمبلی نے بھی ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کر دی
قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کر دی ہے، اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کےنفاذ کی قرار داد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کب اور کیسے نافذ ہوئے؟
11 اکتوبر 2026 کو وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر اس فیصلے کی منظوری دی۔
اس اقدام کے لیے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 کا حوالہ دیا گیا۔وفاقی حکومت کی جانب سے جواز میں صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، امن و امان کی خراب صورتِ حال اور آئینی نظام کے مؤثر طور پر کام نہ کرنے کے خدشات پیش کیے گئے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر اختلافات اور سیاسی کشیدگی موجود تھی۔
گورنر راج اور ایمرجنسی میں کیا فرق ہے؟
گورنر راج کے لیے آرٹیکل 234 کا استعمال کیا گیا، اس آرٹیکل کے تحت جب صدر اس نتیجے پر پہنچیں کہ کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چل سکتی، تو آئینی طریقۂ کار کے تحت صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی اختیارات صدر یا گورنر کو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے اختیارات بھی پارلیمان کے ذریعے استعمال کرائے جا سکتے ہیں۔
اس کا اطلاق دو ماہ بعد ختم ہو جاتا ہے، اگر اس سے پہلے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظوری نہ ملے، منظوری کے بعد توسیع کی جا سکتی ہے لیکن مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
ایمرجنسی ۔۔۔۔آرٹیکل 232
یہ اس وقت نافذ کی جا سکتی ہے جب جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسا اندرونی خلفشار ہو جس پر صوبائی حکومت قابو پانے سے قاصر ہو۔ اس کے تحت وفاق کو صوبے کے معاملات میں اضافی آئینی اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں۔
اہم شرط: اندرونی خلفشار کی بنیاد پر ایمرجنسی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد درکار ہونے کی آئینی شرط موجود ہے، اگر صدر خود اعلان کریں تو اسے دس دن کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔
دونوں اقدامات ایک جیسے نہیں ہیں۔ ایمرجنسی کے دوران بھی صوبائی اسمبلی کے اختیارات برقرار رہ سکتے ہیں جبکہ گورنر راج کے تحت ان اختیارات کی انجام دہی پارلیمان کو منتقل کی جا سکتی ہے۔ ان اقدامات کی آئینی حیثیت کا تعین متعلقہ قانونی شرائط اور حقائق کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
حکومت نے یہ اقدام کیوں کیا؟
وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے مؤقف میں بنیادی اختلاف اسی سوال پر ہے کہ آیا صوبے میں غیر معمولی آئینی اقدامات کی واقعی ضرورت تھی۔
وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ صوبے میں دہشت گردی اور مسلح حملوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہی تھی۔
وفاقی وزرا نے یہ مؤقف پیش کیا کہ امن و امان اور آئینی انتظام کو برقرار رکھنے کے لیے وفاقی مداخلت ضروری تھی۔



