ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے لیے تمام محاذوں پر لڑائی مکمل طور پر بند ہونا ضروری ہے، جبکہ دوبارہ جنگ ہو یا نہ ہو ہماری پالیسیاں اپنی جگہ برقرار ہیں۔
عباس عراقچی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر حملوں کا عندیہ دیا۔ اور امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ سینٹرل کمانڈ نے ایران میں ممکنہ نئے حملوں کے لیے اہداف کی فہرست تیار کر لی ہے۔ جن میں توانائی کی تنصیبات اور معیشت کے اہم مقامات شامل ہو سکتے ہیں۔
ایرانی ٹی وی چینل ایس این این کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وزارت خارجہ کے مرکز برائے سیاسی و بین الاقوامی مطالعات میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے کسی ایک حصے میں جنگ اور تنازعات جاری ہوں تو دوسرے حصوں میں امن و سکون قائم نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے جنگ کا تمام محاذوں پر خاتمہ ناگزیر ہے۔ جبکہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششیں جاری رہی ہیں۔
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی میزائلوں نے زمین پر موجود درجنوں امریکی لڑاکا طیارے تباہ کیے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ سب کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ خطے میں بنیادی اور تزویراتی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں اور 40 روزہ جنگ سے پہلے کی صورت حال اب بحال نہیں ہوگی۔ اس میں آبنائے ہرمز بھی شامل ہے۔
🇮🇷 Iran’s Foreign Minister Abbas Araghchi said you cannot have war and conflict in one part of the region and expect peace and calm in another.
He added that the war must end on every front.
Otherwise, he said, the region will not see stability.
The comments come amid ongoing tensions involving Iran, the United States and Israel. https://t.co/50VVHTctKi
— London Baithead (@londonbaithead) October 25, 2026
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کئی دہائیوں تک کھلی رہی اور اس کے ساحلی ممالک ایران اور عمان نے جہازوں کی آمدورفت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ لیکن اس کے برعکس دونوں ممالک نے سلامتی، تحفظ اور ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا۔ تاہم موجودہ جنگ نے سب کچھ بدل دیا ہے اور ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ اب ایک نئی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے راستے پہلے جیسے نہیں رہیں گے اور نہ ہی اس آبنائے کا انتظام پہلے جیسا ہو گا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ان دنوں دوبارہ جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن میں اب جنگ کے بعد کے مرحلے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ جنگ ہو یا نہ ہو، ہماری پالیسیاں اپنی جگہ برقرار ہیں۔ اگر منطق سے کام لیا گیا تو امریکا ایرانی عوام کے خلاف کوئی فوجی حملہ یا جارحیت نہیں کریں گے۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے اتوار کو دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جنوبی ساحلی شہر بندر عباس کے اوپر امریکا کا لوکاس ڈرون مار گرایا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ہی صحافیوں سے گفتگو میں حملے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم حملے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور شاید کل ہی ایسا کر دیں۔




