بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے لاہور میں ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا بھارتی حکومت انہیں پاکستان جانے کی اجازت دے گی۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے جاری تنازع اور گزشتہ سال ہونے والی جنگ کے بعد سے حالات انتہائی کشیدہ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے دونوں جانب سے آمدورفت انتہائی محدود ہے۔
بھارتی اخبار دی ٹریبیون کے مطابق بھگونت مان نے بھارتی پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بتایا کہ لاہور میں منعقد ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس کے منتظمین نے انہیں دعوت دی ہے اور ان کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔
بھگونت مان نے شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انہیں پہلے بھی فرانس اور جاپان جیسے ممالک کے دوروں کی اجازت نہیں ملی، ہو سکتا ہے بھارتی حکومت انہیں پاکستان جانے کی بھی اجازت نہ دے۔
Indian Punjab Chief Minister Bhagwant Mann has expressed his desire to visit Pakistan.
“I want to attend the World Punjabi Conference in Lahore. They have invited me, and I want to go because we share the same roots,” Mann said, urging the Modi government to grant him permission.“Chief Minister Sahib, if you get permission, please take us along to Lahore too!” Several MPs, including the Speaker, can be heard enthusiastically expressing their desire for a Lahore Yatra.
— Ajmal Jami (@ajmaljami) October 24, 2026
وزیراعلیٰ بھارتی پنجاب نے دونوں خطوں کے مشترکہ ثقافتی ورثے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی اور مغربی پنجاب کی ثقافت ایک جیسی ہے، جبکہ دونوں خطوں کے شاعر بھی کانفرنس میں شرکت کریں گے اور وہ خود بھی لاہور جانا چاہتے ہیں کیونکہ دونوں جانب کی مٹی، ثقافت اور مسائل مشترک ہیں۔ انہوں نے دونوں خطوں کے درمیان روابط بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
واضح رہے کہ عالمی پنجابی کانفرنس 27 سے 29 نومبر تک لاہور میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کا اہتمام پنجابی پرچار آرگنائزیشن، پنجابی لہر اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف ممالک سے شرکا کی شرکت متوقع ہے۔
بھارتی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کلتار سنگھ سندھواں اور دیگر ارکان نے بھی بھگونت مان سے کہا کہ اگر انہیں لاہور جانے کی اجازت مل جائے تو وہ انہیں بھی ساتھ لے جائیں۔ اس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان سمیت پوری اسمبلی اسپیکر کی قیادت میں کرتارپور جائے۔
بھگونت مان نے کہا کہ اگر کرتارپور راہداری دوبارہ کھول دی جائے تو ارکان اسمبلی سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کے مزار پر حاضری دے سکتے ہیں، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری برس گزارے تھے۔
یاد رہے کہ بھارتی وزارت داخلہ نے پاک بھارت تنازع کے باعث وہاں سے آنے والے یاتریوں کے لیے کرتارپور راہداری کی آمدورفت معطل کر رکھی ہے۔



