بھارتی انڈو تبتن بارڈر پولیس کے سربراہ شتروجیت کپور نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے کئی سرحدی علاقوں میں بھارتی اور چینی افواج میں کئی ماہ سے ٹکراؤ جاری ہے۔
گزشتہ کئی روز سے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ارونا چل پردیش کے سرحدی علاقوں میں ٹکراؤ کی خبریں زیر گردش تھیں، جس کی کسی ایک فریق کی جانب سے سرکاری سطح پر کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
ایکس پر حال ہی میں کئی بھارتی اکاؤنٹس سے ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں شتروجیت کپور کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ”اروناچل پردیش میں حالیہ دنوں میں کچھ ایسی صورت حال پیدا ہوئی جس میں کئی مقامات پر ٹکراؤ کا سامنا ہوا اور یہ صورتحال اب بھی جاری ہے۔“
FIRST OFFICIAL CONFIRMATION.
NATIONALISTS NEED TO LISTEN.
Man in charge of the Indian Tibetan Border DG Shatrujeet Kapur confirms ongoing skirmishes between PLA and Indian Army since July. Kapur says that these skirmishes were on even when Chinese President Xi Jinping visited Delhi for BRICS.— Rahul Shivshankar (@RShivshankar) October 23, 2026
انڈوتبتن بارڈر پولیس کے سربراہ نے اس صورت حال سے نمٹنے میں اپنی فورس کی ’شوریہ کمانڈو‘ ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ”حال ہی میں تشکیل دی گئی شوریہ کمانڈو فورس بہترین کام کر رہی ہے، وہاں ہمارے شوریہ کمانڈوز نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جلد ہی ہم شوریہ کمانڈوز کی ایک مکمل بٹالین تشکیل دیں گے۔“
بی بی سی کے مطابق بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ گاؤں کے قریب اسافیلا کے علاقے میں جولائی سے چینی اور بھارتی افواج ایک دوسرے کے مقابل موجود ہیں۔
🚨 UNVERIFIED VIDEO
A purported face-off between Indian Army personnel and Chinese troops is circulating online.
📌 The video’s authenticity, location and date have not been independently verified.
#IndianArmy #IndiaChina #BreakingNews https://t.co/g9mGpJ5LMm
— Indian Observer (@ag_Journalist) October 23, 2026
دی ہندو کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ “جولائی میں کسی وقت ماجا کے مقام پر بھارتی اور چینی افواج آمنے سامنے آ گئیں اور مختصر کشیدگی کے بعد دونوں جانب کے فوجی واپس چلے گئے، تاہم چند روز بعد چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے اہلکار بڑی تعداد میں دوبارہ وہاں پہنچے اور تقریباً چھ سے سات کلومیٹر اندر اس علاقے میں خیمے نصب کر لیے، جسے بھارت اپنا علاقہ تصور کرتا ہے۔”
ایکس پر کئی بھارتی اکاؤنٹس کی جانب سے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جارہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارت اور چین کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، تاہم اس ویڈیو کی صداقت، مقام اور تاریخ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
دوسری جانب شتروجیت کپور کے اعتراف کے بعد بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر حقائق چھپانے کا الزام عائد کیا ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”چین کے ساتھ سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مکمل حقیقت عوام کو نہیں بتائی جا رہی، حکومت کو چاہیے کہ پارلیمنٹ میں اس معاملے کی تفصیلات بتائے اور بحث کرائے تاکہ ایک مشترکہ حکمت عملی بنائی جا سکے۔“
Delhi: On ITBP Director’s statement that there were face-offs with China at different locations in Arunachal Pradesh, Congress leader Salman Khurshid says, “Rahul Gandhi has raised this issue many times, but no one in the government is willing to listen to him. Rahul ji has said that all the information available with both sides should be placed in the public domain and discussed transparently. Such a discussion would clarify the actual ground situation, and once the facts are clear, efforts can be made to find a solution. We will also help the government in this regard. However, the government does not reveal the truth, which is why different pieces of information keep emerging from different sources. This is very unfortunate. We want good relations with China, and we should have good relations with our neighbouring country, but those relations must be based on mutual respect. Our national identity must not be questioned. Who will explain what is happening with China and what the government is doing? Only the government can clarify this because it has all the facts. However, it does not disclose those facts and instead claims that nothing has happened and everything is normal. The question is, how can this problem be resolved by avoiding discussion? Rahul Gandhi has repeatedly raised this issue, and now such concerns are also emerging from within the system. Just as questions are being raised about the Election Commission, other issues are also coming to light. How long will the government continue to evade these questions?”
— IANS (@ians_india) October 23, 2026
انہوں نے مودی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ” حکومت کچھ بتاتی ہی نہیں ہے، پھر ہمیں مختلف ذرائع سے بات پتا چل جاتی ہے جو کہ بہت دکھ کی بات ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ”چین ہمارا پڑوسی ہے اور ہمارے اس کے ساتھ اچھے تعلقات ضرور ہونے چاہییں لیکن یہ تعلقات برابری اور باہمی عزت کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔“
واضح رہے کہ اروناچل پردیش بھارت کی شمال مشرقی ریاست ہے، تاہم چین اس پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے اور اسے جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتے ہوئے زینان کے نام سے پکارتا ہے۔
تقریباً 83 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی اروناچل پردیش کی آبادی تقریباً 16 لاکھ ہے جبکہ اس کی چین کے ساتھ 1129 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔
