پاکستان میں کرکٹ کی طرز پر ہاکی لیگ شروع کرنے کی تیاریاں جاری ہیں، جس کا مقصد قومی کھیل کو مالی استحکام فراہم کرنے، کھلاڑیوں کے لیے آمدن کے مستقل مواقع پیدا کرنے اور نوجوان ٹیلنٹ کو آگے بڑھنے کا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے، پاکستان ہاکی فیڈریشن نے لیگ کا پہلا ایڈیشن اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں لاہور میں منعقد کرنے کا ہدف مقرر کر دیا، جس میں 6 سے 8 فرنچائزز کی شرکت متوقع ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایڈہاک صدر محی الدین وانی کے تحت تیار کیے جانے والے اس منصوبے میں نجی شعبے کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو اہم کردار دینے کی تجویز ہے۔ توقع ہے کہ نجی شراکت دار لیگ کے انعقاد، ٹیموں کی تشکیل اور مالی وسائل کی فراہمی میں تعاون کریں گے۔
قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی عبدالحنان شاہد نے لیگ کے منصوبے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی دنیا کے مختلف ممالک کے بڑے کلبوں کی جانب سے کھیلتے ہیں اور عالمی سطح پر ان کی صلاحیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی معیار پاکستان میں شائقین اور نوجوانوں کو دکھانے سے قومی کھیل میں دلچسپی بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیگ کے ذریعے شائقین کو اپنے قومی ہیروز کو ملک میں کھیلتے ہوئے دیکھنے کا موقع ملے گا، جس سے ہاکی کے ساتھ عوام اور نوجوان نسل کا تعلق دوبارہ مضبوط ہوسکتا ہے۔
پاکستان ہاکی لیگ کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے! 🏑
ابتدائی ایڈیشن کے اوائل 2027 میں انعقاد کے ساتھ ہی، قومی ہاکی کے شاندار ماضی کو بحال کرنے کے اس اہم اقدام پر کھلاڑیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ https://t.co/ydws3aGsb2
— HUM News اردو (@humnews_urdu) October 15, 2026
پاکستان ہاکی ٹیم کے کوچ باب ویلڈہوف نے بھی مقامی سطح پر مسابقتی مقابلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لیگ نوجوان کھلاڑیوں کو تجربہ کار، بین الاقوامی سطح پر کھیلنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے اور ان سے سیکھنے کا موقع فراہم کرسکتی ہے۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کی ممکنہ شرکت سے مقامی کھلاڑیوں کو مختلف انداز کھیل سمجھنے اور اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
کھلاڑیوں کے مالی مسائل حل کرنے کی امید
پاکستان ہاکی کو درپیش بڑے مسائل میں کھلاڑیوں کا مالی عدم استحکام بھی شامل ہے۔ قومی کھلاڑیوں کو تربیتی کیمپوں اور ٹورنامنٹس کے دوران یومیہ الاؤنس ملتے ہیں، تاہم انہیں عام طور پر مستقل تنخواہوں اور مرکزی معاہدوں پر مبنی ایسا نظام میسر نہیں جو کھلاڑیوں کو طویل مدتی مالی تحفظ فراہم کرسکے۔
آسٹریلیا، بھارت اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں ہاکی کھلاڑیوں کے لیے مستقل آمدن کے مواقع محدود ہیں۔ بعض کھلاڑی بیرون ملک لیگز میں شرکت یا محکمانہ ملازمتوں کے ذریعے مالی ضروریات پوری کرتے ہیں، لیکن یہ مواقع تمام کھلاڑیوں کو دستیاب نہیں ہوتے۔
مجوزہ ہاکی لیگ اس صورت حال میں بہتری لاسکتی ہے۔ اگر فرنچائزز کھلاڑیوں کے ساتھ شفاف معاہدے کریں، مناسب معاوضہ دیں اور ادائیگیاں بروقت یقینی بنائیں تو نوجوان کھلاڑیوں سمیت زیادہ افراد کے لیے ہاکی کو باقاعدہ پیشہ بنانے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
تاہم لیگ کی کامیابی کے لیے ضروری ہوگا کہ کھلاڑیوں کے مالی حقوق کو بنیادی ترجیح دی جائے اور فرنچائزز کو مالی مشکلات پیش آنے کی صورت میں بھی کھلاڑیوں کے معاوضوں کے تحفظ کے لیے واضح انتظامات کیے جائیں۔
ماضی کی ناکامی سے سبق سیکھنے کی ضرورت
پاکستان میں اس سے قبل بھی ہاکی لیگ شروع کرنے کی کوشش کی جاچکی ہے۔ تقریباً چار سال پہلے متعارف کرائی گئی میکس ہاکی لیگ کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی روک دیا گیا تھا۔ اس تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیگ کا اعلان کرنا اور اسے مستقل بنیادوں پر کامیابی سے چلانا دو مختلف مراحل ہیں۔
وزارت بین الصوبائی رابطہ میں وفاقی سیکریٹری محی الدین وانی ہاکی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری لانے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت ہر کھیل کی فیڈریشن کو غیر معینہ مدت تک مالی وسائل فراہم نہیں کرسکتی، اس لیے نجی شعبے کی شراکت ضروری ہے۔
مجوزہ لیگ کے لیے حکومتی حمایت ادارہ جاتی تعاون فراہم کرسکتی ہے، تاہم اسے طویل مدت تک کامیاب رکھنے کے لیے قابل اعتماد سرمایہ کاروں، پیشہ ورانہ انتظام، تجارتی طور پر مستحکم ٹیموں اور مؤثر کاروباری منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔
جونیئر اور خواتین ہاکی کو بھی مواقع دینے کی ضرورت
ہاکی لیگ کو قومی کھیل کی ترقی کے وسیع تر منصوبے سے جوڑنا بھی اہم ہوگا۔ ماہرین کے مطابق لیگ کا فائدہ صرف معروف کھلاڑیوں اور بڑی ٹیموں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ جونیئر کھلاڑیوں کو آگے آنے کے مواقع، کوچنگ، کھیلوں کی سہولتوں اور خواتین ہاکی میں سرمایہ کاری بھی جاری رہنی چاہیے۔
پاکستانی ٹیم کی 2026 کے ہاکی ورلڈ کپ کے لیے آٹھ سال بعد واپسی قومی کھیل کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اب اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے نظام کی ضرورت ہے جو کھلاڑیوں کو مسلسل مقابلے، بہتر تربیت اور مالی تحفظ فراہم کرسکے۔
پاکستان ہاکی لیگ قومی کھیل کے لیے آمدن پیدا کرنے، کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور عوام کی دلچسپی بحال کرنے کا موقع فراہم کرسکتی ہے، تاہم اس کی حقیقی کامیابی کا انحصار مستقل سرمایہ کاری، پیشہ ورانہ انتظام اور کھلاڑیوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ دینے پر ہوگا۔



