وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت اپوزیشن جماعتوں کو خیبرپختونخوا کی صورت حال پر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”باقی مطالبات ایک سائیڈ پررکھیں اور دہشت گردی پر بیٹھ کربات کریں۔“
وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رواں ماہ کے آغاز میں طویل مذاکراتی ادوار ہوئے جو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوئے، یہ مذاکرات اس وقت کے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے کیے جانے والے اسلام آباد لانگ مارچ سے روکنے کے لیے جارہے تھے۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں پر عدم تعاون کا الزام لگاتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا تھا جبکہ سہیل آفریدی سمیت مرکزی صوبائی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب اتفاق رائے سے شروع کیا گیا تھا،ماضی میں اس آپریشن کے تحت دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا،آج بھی دہشت گردی کے معاملے پر یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔کل بھی دہشتگردی میں ایک میجر کی شہادت ہوئی ہے، یہ واقعات روز ہو رہے ہیں، کسی جوان کی 2ماہ بعد شادی طے تھی ،کسی کے چھوٹے بچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قوم کو دہشت گردی کا مسئلہ درپیش ہے،معاملے پراپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھنے کو تیار ہیں، وزیراعظم بھی اس مسئلے کاحل نکالنے کیلئے سب کودعوت دینے کو تیار ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی دعوت کے باوجود احتجاج کرنا قومی خدمت نہیں ہے، وزیراعظم ہاؤس کے باہر یہ دھرنا دئیے بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے کہ وزیراعظم کوگھسیٹ کرنکالیں گے۔
وزیر اعظم کے مشیر کا مزید کہنا تھا کہ اپیکس کمیٹی میں ہر معاملے پر نظر ثانی کی جاتی ہے،کے پی میں 11 مہینے میں صرف ایک میٹنگ ہوئی۔
انہوں نے محمود اچکزئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسپیکر کے دستخط سے اپوزیشن لیڈر بنے ہیں مگر وہ اسپیکر چیمبر میں جانے کو تیار نہیں، اگر وہ اسپیکر کو نہیں مانتے تو پھر مراعات کیوں لے رہے ہیں؟ آپ وزیر اعظم سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات کو تیار نہیں ۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب ماضی میں اسمبلیاں توڑیں تو ہم نے اس وقت بھی ان سے مذاکرات کئے،ستمبر کے پہلے ہفتے میں عام انتخابات کا فیصلہ ہوا،شاہ محمود قریشی نے کہا عمران خان سے بات کرنی ہے مگر بعد میں اس سے پیچھے ہٹ گئے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپ پورے ادارے اور سربراہ کیخلاف سوشل میڈیا پر بیانیہ بنا رہے ہیں، گالم گلوچ برگیڈ معاملہ خراب کر رہی ہے، پی ٹی آئی خود سوشل میڈیا برگیڈ کا شکار ہوئی،جب جیل میں بیٹھ کر ایسا بیانیہ بنائیں گے تو پھر رولز کے تحت ملاقاتوں پر پابندی لگ سکتی ہے۔



