اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر حکومت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو حکومت کو بانی پی ٹی آئی سے ہماری ملاقات کروانا ہوگی۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کا مارچ ملتوی کرانے کے لیے وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان 2 اور 3 اکتوبر کو مذاکرات کے دو ادوار ہوئے تاہم فریقین میں اتفاق رائے نہ ہوسکا۔
گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی، محمود اچکزئی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر حکومت سے مذاکرات ممکن نہیں، مسئلے کے حل کیلئے پہلے ملاقات کرانا ہوگی۔
ژوب میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری سیاسی بحران کا حل مذاکرات اور آئین کی بالادستی میں ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو آئین کی بالادستی پر متفق ہونا چاہیے۔
میں نے ان پر واضح کیا کہ خدا کے لیے میری بات سنیں، عمران خان سے ملاقات کیے بغیر اور ان کی رائے جانے بغیر، اگر آپ یا آپ کے ساتھی اس مارچ کو منسوخ یا ملتوی کرتے ہیں، تو اس سے آپ کی بھی رسوائی ہوگی اور میرے ساتھیوں کی بھی۔ میں ایسے کسی عمل میں آپ کے ساتھ نہیں ہوں۔ https://t.co/w6XFq6UYKp
— Mehmood Khan Achakzai (@MKAchakzaiPKMAP) October 7, 2026
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بنیادی شرط ہے۔
اگرحکومت واقعی مسئلے کا حل چاہتی ہے تو پہلے ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملنے دیا جائے، ان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد مذاکرات جاری رکھنے کی یقین دہانی
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد تمام مسائل کے حل تک مذاکرات ختم نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل تک حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، بانی پی ٹی آئی جو کہیں گے، ہم وہی بات آگے پہنچائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے اور سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں ہی حل ہونا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ سیاسی بحران کا خاتمہ آئین کی بالادستی اور سیاسی قوتوں کے درمیان بات چیت سے ممکن ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے آئینی نظام کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
گورنر راج کی مخالفت، بھرپور مزاحمت کا اعلان
اپوزیشن لیڈرنے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے خبردارکیا کہ اگرخیبرپختونخوا میں گورنرراج نافذ کیا گیا توبھرپورمزاحمت کی جائے گی، گورنرراج کی صورت میں ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگایا گیا تو ملک کا ہر چوراہا بند کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کی جائے گی۔
شہباز شریف مذاکرات کی بات کرتا ہے، میں پوچھتا ہوں کہ آخر کس چیز کے مذاکرات؟
اس وقت دو پارٹیاں حالتِ جنگ میں ہیں۔ ایک طرف شہباز، نقوی اور ان کا لشکر ہے جو منڈی میں بکنے والے مال کی طرح ہیں، اور ان کے لیڈر کی پشت پر جرنیل کھڑے ہیں۔ جبکہ دوسری پارٹی کا لیڈر جیل میں قید ہے۔ https://t.co/R1FLxSm2GT
— Mehmood Khan Achakzai (@MKAchakzaiPKMAP) October 7, 2026
شہباز حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان
محمود خان اچکزئی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم شہباز حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان بامعنی مذاکرات ضروری ہیں۔
انہوں نے ایک مرتبہ پھر مؤقف دہرایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ہی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے اور ان کی ہدایات کے مطابق ہی آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
آئین کی بالادستی ہی ملک میں سیاسی استحکام کی بنیاد بن سکتی ہے، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے بحران کے حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔



