پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات اور رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات سب بہانے تھے، انہیں پہلے سے معلوم تھا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانا ہے۔
ہم نیوزکے پروگرام “فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ انہوں نے جو کہا تھا، اب وہ ہو گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے خلاف تعاون سے کبھی انکار نہیں کیا، ہم نے پولیس کو ایک سال میں 190 ارب روپے کا بجٹ منظور کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا مؤقف تھا کہ دہشت گردی جیسے اہم معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔
شوکت یوسفزئی کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات محض بہانے تھے جبکہ انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنا چاہتی ہے۔
لانگ مارچ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے اعتراف کیا کہ مارچ کے لیے ان کے سامنے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔
واضح رہے کہ شوکت یوسفزئی نے پی ٹی آئی قیادت کو خط لکھ کر سکیورٹی خدشات اور دہشت گردی میں اضافے کے پیش نظر لانگ مارچ ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وفاقی حکومت ایمرجنسی کے نفاذ کو جواز بنا سکتی ہے، اس لیے ریاست سے تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔
خط سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں تنقید اور مبینہ طور پر پارٹی کے رویے کا سامنا کرنا پڑا، شوکت یوسفزئی لائیو پروگرام کے دوران اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے تھے۔
شوکت یوسفزئی کے حالیہ بیانات میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے، مذاکرات پر تحفظات اور لانگ مارچ کی منصوبہ بندی نہ ہونے سے متعلق اہم نکات سامنے آئے ہیں۔



