پنجاب حکومت نے خفیہ کیمرے، کیمرا پین، کی چین اور بٹن کیمرے کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
لاہور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس میں خفیہ ریکارڈنگ کرنے والے آلات کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے شہریوں کی نجی زندگی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے لیے پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ اور محکمہ داخلہ کو ان آلات کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مذکورہ آلات کے ذریعے خفیہ ریکارڈنگ، غیر قانونی نگرانی، ہراسانی اور بلیک میلنگ کے خدشات کے پیش نظر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کیمرہ نصب اسمارٹ عینکوں کی فروخت اور استعمال پر بھی تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں ان آلات سے متعلق ضابطہ سازی کے لیے درخواستوں کی سماعت جاری ہے۔
پنجاب میں 3 ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ نے تین سالہ صنعتی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی ہے، جس کے تحت 3 ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اور نجی شعبے کے 46 سرمایہ کار اس پروگرام میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں، جبکہ زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے بھی اس کا حصہ ہوں گے۔ منصوبے سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستانی مصنوعات کو ملک کے اپنے نام سے عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اور گلابی نمک پاکستانی مصنوعات کے طور پر برآمد کیا جائے گا، جبکہ مقامی طور پر تیار ہونے والے پنکھوں کی جانچ کے لیے بھی ملک میں سہولیات قائم کی جائیں گی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے پہلے دو سال کے دوران 30 ہزار سے زائد ٹریکٹر فراہم کیے گئے، جبکہ حکومت 9 ارب 50 کروڑ روپے کی سبسڈی ادا کرے گی۔ صوبے کے ہر ضلع میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹیز قائم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت گلگت بلتستان کو کلینکس آن ویلز کی چھ گاڑیاں فراہم کرے گی۔ اور نوجوانوں کو سعودی عرب میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنسوں پر تنقید
وزیر اطلاعات نے خیبرپختونخوا میں معدنیات کی تلاش اور کان کنی کے لائسنسوں کے اجرا سے متعلق بھی کہا کہ 2013 سے 2026 کے دوران 4 ہزار 200 لائسنس جاری کیے گئے، جبکہ پاکستان کے قیام سے 2010 تک 422 لائسنس جاری ہوئے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کے ادوار میں تقریباً ایک ہزار لائسنس جاری کیے گئے۔
فضائی آلودگی میں ٹرانسپورٹ کا 30 فیصد حصہ
اس موقع پر صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ فضائی آلودگی میں ٹرانسپورٹ کا حصہ 30 فیصد ہے، جس میں کمی کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے اور اخراجات کم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مارچ 2027 میں گوجرانوالہ کے میٹرو نظام کا افتتاح کریں گی۔ جبکہ پنجاب میں پہلے ہی تین میٹرو نظام کام کر رہے ہیں۔
بلال اکبر خان نے کہا کہ صوبے کی الیکٹرک ٹیکسی اسکیم میں شمولیت کے لیے 25 ہزار افراد نے درخواستیں دی ہیں، جن میں سے 743 درخواست گزاروں کے قرضے منظور کیے جاچکے ہیں۔ اور الیکٹرک ٹیکسیوں میں خواتین کا حصہ 30 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں کی جانچ کے لیے 44 مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 18 لاہور میں ہیں۔ اور لاہور میں ایسے مراکز کی تعداد بڑھا کر 35 کرنے کا منصوبہ ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ لاہور کے دو سے تین بس اور ٹرانسپورٹ اڈوں کو راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RUDA) کے تعاون سے شہر سے باہر منتقل کرنے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔



