چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر کہا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے حالات بہتر نہیں بلکہ مزید خراب ہوں گے۔
سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں جائے حادثہ پر پہنچ کر پارٹی شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 18 اکتوبر کو پیش آنے والے دہشت گردی کے اس بڑے واقعے کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اور سانحہ کارساز نے جمہوریت کے لیے قربانیوں کی دردناک تاریخ رقم کی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے بہادری سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھا۔ ملک کی سلامتی کے لیے ہماری بہادر افواج قربانیاں دے رہی ہیں، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج، پولیس اور عوام سمیت ہر طبقے کے لوگ شہید ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ 18 اکتوبر 2007 کو کراچی میں بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کے جلوس پر دو خودکش حملے ہوئے تھے، جن میں 180 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔
’دہشتگردوں کا متحدہ ہو کر مقابلہ کریں گے‘
بلاول بھٹو نے اعلان کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور ہم متحد ہوکر ان کا مقابلہ کریں گے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں جبکہ کچھ قوتیں سوات میں پاکستان کا جھنڈا اتارنا چاہتی ہیں، لیکن پاکستان کے کسی بھی حصے سے قومی پرچم اتارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تو پیپلزپارٹی یہ ذمہ داری ادا کرے گی۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے فیصلے میں وفاقی حکومت کا ساتھ دیا ہے۔ اور اگر اپوزیشن خیبرپختونخوا سے ایمرجنسی ختم کرانا چاہتی ہے تو اسے بات چیت کے لیے آنا چاہیے۔
’احتجاجی سیاست ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے‘
چیئرمین پیپلز پارٹی نے واضح کیا کہ ملک میں کسی کو انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جبکہ احتجاجی سیاست ملک کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے اور پاکستان اس وقت تاریخی معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ جمہوری نظام میں بہتری کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم نقصان اس وقت ہوتا ہے جب دہشت گردی کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرکے رہیں گے اور قومی سلامتی کے لیے تمام قوتوں کو مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا بحیثیت اپوزیشن رکن حکومت پر تنقید کرنے کا حق ہے، جبکہ پیپلز پارٹی نے آئینی اور قانونی طریقے سے دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایمرجنسی لگائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی پارٹی نے دہشتگردی میں نقصان اٹھایا ہے اور وہ دہشتگردی کے خلاف ہمارا ساتھ دیتے تو ٹھیک رہتا، مولانا فضل الرحمان اگر چاہیں تو ایمرجنسی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔



