پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان کی درخواست 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی۔
عدالت کا ڈویژنل بنچ آئندہ سماعت پردرخواست کی سماعت کرے گا، جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو چیلنج کیا گیا ہے، درخواست میں صدرمملکت، وزیراعظم اور گورنرخیبرپختونخوا کوفریق بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جسے پاکستان تحریک انصاف نے عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔
اب پشاور ہائیکورٹ میں 20 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں درخواست گزار کے مؤقف اور صوبے میں ایمرجنسی و گورنرراج کے نفاذ سے متعلق قانونی نکات کا جائزہ لیا جائے گا۔
بیرسٹر گوہرعلی خان کی جانب سے دائردرخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی اورگورنر راج کا نفاذ غیرآئینی، غیرقانونی اوربدنیتی پرمبنی اقدام ہے۔
درخواست گزارنے عدالت سے استدعا کی ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اورگورنرراج کے نفاذ کے اقدام کو کالعدم اورغیرقانونی قراردیا جائے، درخواست میں اس اقدام کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے اوراسے ختم کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
بیرسٹرگوہرعلی خان کی جانب سے درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقررکرنے کی استدعا کی گئی تھی، جس کے بعد پشاورہائیکورٹ نے اسے 20 اکتوبر کو سماعت کے لئے مقرر کردیا۔



