مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے یورپی سفارت کاروں کے قافلے پر حملہ کرکے 78 سالہ فرانسیسی میئر برنارڈ باؤڈوکس کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ واقعے کے بعد اسرائیلی پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق فرانس، بیلجیم اور پولینڈ کے سفارتی مشنز کی گاڑیوں میں سوار سفارت کار مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں طیبہ پہنچے تھے، جہاں فلسطینی زیتون کی فصل جمع کر رہے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینیوں کو زیتون کی کٹائی سے روکنے کے لیے حملہ کیا اور سفارت کاروں کے ساتھ بھی جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ اس دوران شمالی فرانس کے قصبے اولنوی ایمریز کے 78 سالہ میئر برنارڈ باؤڈوکس کو لاتیں ماریں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
Israeli “settlers,” wearing masks, attacked a convoy of European diplomats from France, Belgium, and Poland who had arrived in the Palestinian Christian village of Taybeh (near Ramallah) during the olive harvest season.
Seven settlers on quad bikes surrounded the vehicles, demanded identification, and began throwing stones, breaking a window in a car belonging to the Belgian consulate.
— 𝕊𝕡𝕣𝕚𝕟𝕥𝕖𝕣 𝕻𝕣𝕖𝕤𝕤 (@SprinterPress) October 17, 2026
موقع پر موجود گواہوں نے میئر کی شناخت کی تصدیق کی۔ فوٹیج میں انہیں فرانسیسی پرچم کا نشان لگائے ایک گاڑی کے قریب زمین پر گرا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ واقعے سے واقف دو افراد کے مطابق وہ زخمی ہوئے، تاہم انہیں اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
زیتون کی کٹائی کے دوران تشدد کے واقعات میں اضافہ
مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی کٹائی کے موجودہ سیزن کے دوران فلسطینی کسانوں اور صحافیوں پر حملوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ جمعہ کو بھی اسرائیلی آبادکاروں نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والی ایک فوٹوگرافر کو کوریج کے دوران شدید زخمی کر دیا تھا، جبکہ گزشتہ ہفتے ایک اور خبر رساں ادارے کے فوٹوگرافر کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ کی مذمت، تحقیقات شروع
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے سفارتی قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی شرپسندوں کے پرتشدد اقدامات کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے سفارتی مشنز کے دورے کے حوالے سے فوج کے ساتھ پیشگی رابطہ اور رابطہ کاری نہ ہونے پر بھی تنقید کی۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس کے مطابق متاثرین اور گواہوں کے بیانات حاصل کیے جا رہے ہیں، جبکہ مشتبہ افراد کی شناخت کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب اسرائیل میں انتخابی مہم اپنے آخری مراحل میں ہے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کے واقعات پر سیاسی اور سفارتی سطح پر بحث جاری ہے۔



