ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مکہ اتحاد مثبت پیش رفت ہے اور مسلمانوں کے اتحاد کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
عرب میڈیا کے دیئے گئے انٹرویو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ انہیں اس اتحاد کے تحت کیے گئے فیصلوں کی تفصیلات معلوم نہیں، تاہم یہ پیش رفت مسلمانوں کو قریب لانے اور اسلامی اتحاد کے قیام کی جانب اہم پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ اتحاد کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان متحد ہوں، ایران اس عمل میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔
Iranian President Pezeshkian on the Mecca Alliance between Saudi Arabia, Türkiye and Pakistan:
This is a step forward. Muslims should unite. We are ready to participate in this process.
Of course, we do not know the details of their decisions.
This could be a step toward Muslims coming together and achieving Islamic unity, rather than splitting into two groups and fighting one another.
— Clash Report (@clashreport) October 17, 2026
مسعود پزشکیان نے کہا کہ مسلمانوں کو دو گروہوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے متحد ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس طرح کے اقدامات اسلامی اتحاد کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عرب، ترک یا ایرانی ہونے سے بڑھ کر ہم مسلمان ہیں اور اللہ کے نزدیک انسان کی برتری کا معیار اس کی قومیت نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔
ایرانی صدر نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ قومیت اور نسلی شناخت سے بالاتر ہو کر متحد ہوں اور اللہ کے احکامات پر عمل کریں۔ اگر مسلمان مل بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی کوشش کریں تو عرب، ترک یا ایرانی ہونے کی تقسیم اہمیت نہیں رکھتی، کیونکہ سب مسلمان ہیں۔
Iranian President Masoud Pezeshkian:
If Muslims sit down together, first of all, there is no such thing as an Arab country, a Turkish country or an Iranian country in this sense.
We are Muslims. We were created from a man and a woman and made into peoples and tribes.
What matters before God is piety, not whether you are Arab, Turkish or Persian.
We should sit down and follow God’s commandments.
— Clash Report (@clashreport) October 17, 2026
انہوں نے کہا کہ انسانوں کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا گیا اور انہیں مختلف قوموں اور قبائل میں تقسیم کیا گیا۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں بیٹھیں، اپنے اختلافات دور کریں اور اللہ کے احکامات کی پیروی کریں۔


