برطانیہ نے حوثیوں کے حملوں کے پیش نظر اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ انتباہ ریاض کے ہوائی اڈے پر حوثیوں کے مہلک حملوں کے بعد جاری کیا گیا، جن میں کم از کم 14 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اس سے قبل آسٹریلیا، نیوزی لینڈ ، امریکا، کینیڈا، برطانیہ، جنوبی کوریا اور جاپان بھی حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت جاری کر چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانوی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، حوثی حملوں میں ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
ریاض، عسیر ، نجران اور جازان سے متعلق خصوصی ہدایت
برطانوی دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ حوثیوں نے یمن میں عدن ایئرپورٹ اور صدارتی محل پر بھی حملے تیز کر دیئے ہیں، اسلئے برطانوی شہری سعودی دارالحکومت دارالحکومت ریاض ، عسیر، نجران اور جازان صوبوں کے علاوہ طائف، جدہ اور دمام کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
برطانوی دفتر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ ہوائی اڈوں پر مزید حملوں کا قوی امکان ہے، اس لیے شہری سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے جاری کیے جانے والے انتباہات پر عمل کریں۔
برطانوی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بیرونِ ملک ہنگامی صورتِ حال سے متعلق حکومتی ویب سائٹ اور سفری ہدایات کے ای میل الرٹس کے لیے رجسٹریشن کریں، جبکہ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے تازہ ترین معلومات حاصل کرتے رہیں۔
’تصاویر بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے بھی گریز کریں‘
برطانوی دفتر خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود برطانوی شہریوں کو ممکنہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور سفری مشکلات کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ تنازع سے متعلق واقعات کی تصاویر بنانے یا انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے بھی گریز کرنے کا کہا ہے۔
خیال رہے کہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی اہم تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے جواب میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثی جنگجووں کیخلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔



