سعودی اتحادی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ مدینہ میں کروز میزائل کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب حوثی فوج نے مدینہ پر حملے کی تردید کی ہے۔
سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے سعودی سرزمین کی طرف داغے جانے کے فوری بعد اس کروز میزائل کا سراغ لگایا، اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھی اور مدینہ ریجن میں اسے مار گرایا۔
التحالف :
اعتراض وتدمير صاروخ مجنح (كروز) بمنطقة المدينة المنورة.
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 15, 2026
یہ واقعہ سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے دوران پیش آیا ہے، جن میں ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
سعودی اتحادی افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اتحادی کمانڈ دشمن کے فضائی اہداف کا مقابلہ کرنے کے لیے انتہائی مستعد اور مکمل چوکس ہے۔
شہری تنصیبات اور اسلامی مقدسات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات پر زور
ترجمان نے خطرات کو ناکام بنانے، شہری تنصیبات اور اسلامی مقدسات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ میزائل کس نے داغا تھا اور اس کا ممکنہ ہدف کیا تھا۔ اس کے علاوہ کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ یمنی مسلح افواج نے آج سعودی سرزمین کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی۔ مدینہ منورہ پر حملے سے متعلق سعودی دعوے کھلا جھوٹ ہیں۔
تؤكد القوات المسلحة اليمنية أنها لم تنفذ اليوم أي عملية استهداف باتجاه الأراضي السعودية
وأن ما يدعيه العدو السعودي من استهداف باتجاه المدينة المنورة فهو بهتان عظيم وكبير.— العميد/ يحيى سريع (@Yah_Saree) October 15, 2026
ایک روز قبل اتحادی فوج نے کہا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور جنوبی علاقے میں 3 میزائلوں کو فضا ہی میں روک کر تباہ کر دیا گیا ہے، ریاض میں میزائلوں کا ملبہ گرنے سے 4 افراد زخمی ہوئے جبکہ 15 مکانات کو معمولی نقصان پہنچا۔
خیال رہے کہ سعودی فوجی اتحاد نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں خصوصی آپریشن کی تیاری کرتے ہوئے شہریوں کو انخلا کا عندیہ دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اتحادی فوج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ کہ صنعاء میں مجوزہ خصوصی آپریشن سے پہلے متعلقہ مقام پر موجود شہریوں کو انخلا کی ہدایت جاری کی جائے گی۔
دوسری جانب حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی اتحاد کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر صنعاء پر حملے کیے گئے تو اس کا جواب سعودی دارالحکومت ریاض میں دیا جائے گا۔



