سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
خبر رساں ادارے کا کہنا ہے سعودی عرب نے پیر 12 اکتوبر کو اس سے قبل ریاض میں ممکنہ ’’ خطرے‘‘ سے متعلق انتباہ جاری کیا تھا۔پیغام میں شہریوں کو ممکنہ خطرے سے خبردار کیا گیا۔
ریاض میں تین زور دار آوازیں سنی گئیں
رائٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق پیر کو سعودی دارالحکومت ریاض میں تین زور دار آوازیں سنائی دیں۔ تاہم فوری طور پر ان آوازوں کی وجہ اور ان کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
سعودی اتحاد کی جانب سے بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا اعلان ریاض میں خطرے کے انتباہ کے بعد سامنے آیا تاہم دستیاب رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شہر میں سنی جانے والی تینوں آوازوں کا میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی سے براہ راست تعلق تھا یا نہیں۔
ایران نے مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کر دی
حالیہ حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات نے خلیجی ممالک کے درمیان مشترکہ سیکیورٹی اور دفاعی تعاون کو دوبارہ فعال کرنے پر زور دیا ہے۔ اماراتی صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانا تمام خلیجی ریاستوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
سعودی عرب میں مسلسل حملوں اور میزائل خطرات کے باعث فضائی سفر، اہم اقتصادی سرگرمیوں اور علاقائی سیکیورٹی پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ >
سعودی ایئرپورٹس اور تیل کی تنصیبات نشانے پر
رائٹرز کے مطابق حوثی گزشتہ ہفتے سے سعودی عرب کے ایئرپورٹس اور تیل کی تنصیبات پر حملے کر رہے ہیں۔ ان حملوں کے باعث سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حالیہ مہلک حملوں کے بعد فضائی آپریشنز بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ہفتے کو ہونے والے حملے میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے جبکہ اتوار کو ایک اور حملے میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر علاقائی تنازع بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ یمن کی لڑائی کے اثرات سعودی عرب تک پھیلنے سے خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے ریاض کی جانب داغے گئے میزائل کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم حوثیوں کی جانب سے اس مخصوص حملے پر ردعمل اور سعودی حکام کی جانب سے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔



