سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں کو مملکت پر مسلسل حملوں کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
رائٹرز کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت منگل کو ریاض میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں یہ انتباہ جاری کیا گیا۔
سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق کابینہ نے کہا کہ مملکت پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کے نتائج سامنے آئیں گے، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
ریاض ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ، 13 افراد ہلاک
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ کشیدگی کی اہم وجہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والا مہلک میزائل حملہ ہے۔
رائٹرز کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسے سعودی سرزمین پر ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران ہونے والے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا گیا۔
حوثی فوجی ترجمان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ریاض کے ایئرپورٹ سمیت سعودی عرب کی دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
اتوار کو ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر ایک اور حملے کی اطلاع سامنے آئی، جس میں ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد ایئرپورٹ پر پروازیں متاثر ہوئیں اور سعودی حکام نے سکیورٹی اقدامات سخت کر دیے۔
رائٹرز کے مطابق حالیہ ہفتوں میں یمن کے ساحلی علاقوں اور بحیرہ احمر کے قریب محاذ آرائی میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کی پیش قدمی کے جواب میں حوثیوں نے بھی اپنی فوجی کارروائیاں تیز کی ہیں۔
کیا سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جنگ مزید پھیل سکتی ہے؟
سعودی کابینہ کی سخت وارننگ، صنعاء میں اتحادی فوج کی کارروائیوں کی اطلاعات اور حوثیوں کی جوابی حملوں کی دھمکیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جانب کشیدگی میں مزید اضافے کا خطرہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں شروع کرتا ہے تو حوثی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سعودی ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو دوبارہ نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اس کے برعکس، مسلسل حملوں سے یمن میں شہری آبادی کو مزید نقصان پہنچنے اور پہلے سے سنگین انسانی بحران کے بڑھنے کا خدشہ ہے۔
فی الحال سعودی کابینہ نے حوثیوں کو نتائج بھگتنے کی وارننگ دی ہے جبکہ حوثیوں نے صنعاء پر حملوں کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
یمن کی خانہ جنگی: تنازع کا آغاز کیسے ہوا؟
یمن میں موجودہ خانہ جنگی کی بنیادی وجوہات سیاسی عدم استحکام، اقتدار کی کشمکش اور مختلف علاقائی و مقامی گروہوں کے درمیان اختلافات ہیں۔
حوثی تحریک نے 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو دارالحکومت چھوڑنا پڑا۔
مارچ 2015 میں سعودی عرب نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر فوجی مداخلت شروع کی تاکہ یمنی حکومت کو بحال کرنے اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنے میں مدد دی جا سکے۔
اس جنگ میں ایران حوثیوں کا اہم علاقائی حامی رہا ہے جبکہ سعودی عرب نے یمنی حکومت کی حمایت کی۔ تاہم یمن کا تنازع محض سعودی عرب اور ایران کی رقابت تک محدود نہیں، بلکہ اس میں مقامی سیاسی اختلافات، قبائلی تعلقات، علاقائی مفادات اور اقتدار کی تقسیم کے مسائل بھی شامل ہیں۔
2022 کی جنگ بندی کے بعد دوبارہ لڑائی کیوں شروع ہوئی؟
اقوام متحدہ کی ثالثی سے 2022 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یمن کے کئی محاذوں پر لڑائی کی شدت میں نمایاں کمی آئی تھی، تاہم تنازع کا مستقل سیاسی حل سامنے نہیں آ سکا۔
2023 میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے مستقل جنگ بندی کی جانب پیش رفت کی کوششیں ہوئیں لیکن مجوزہ روڈ میپ باضابطہ طور پر نافذ نہ ہو سکا۔
2026 میں یمن کے اندر طاقت کے توازن میں تبدیلیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے ساتھ دوبارہ شدید جھڑپوں نے حالات کو ایک مرتبہ پھر خراب کر دیا ہے۔



