آئرلینڈ، فرانس، اسپین اور البانیہ سمیت مختلف ممالک میں سرکاری ملازمین، اساتذہ اور طلبہ نے تنخواہوں میں اضافے، تعلیمی سہولیات کی بہتری، مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔
رائٹرز کے مطابق بعض مقامات پر مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جبکہ البانیہ میں سرکاری عمارتوں اور بینکوں کو نقصان پہنچایا گیا۔
فرانس میں تعلیمی نظام کی خراب صورتِ حال کے خلاف طلبہ کے مظاہرے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔
آئرلینڈ: تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کی ہڑتال
خبر رساں ادارے رائٹرز اور آئرش نشریاتی ادارے آر ٹی ای کے مطابق، آئرلینڈ میں 14 اکتوبر کو تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین نے 24 گھنٹے کی ملک گیر ہڑتال کی۔ 2009 کے بعد یہ ملک میں سرکاری شعبے کی سب سے بڑی ہڑتال قرار دی جا رہی ہے۔
ہڑتال میں اساتذہ، ڈاکٹرز، نرسیں، صحت کے شعبے کے ملازمین اور سرکاری افسران شریک ہوئے۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ حکومت نئی تنخواہوں کے معاہدے میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے تنخواہوں میں اضافہ کرے۔
ہڑتال کے باعث ملک بھر میں بڑی تعداد میں اسکول، کالج اور جامعات بند رہیں، جبکہ ہزاروں طبی اپائنٹمنٹس منسوخ کرنا پڑیں۔ تاہم ہنگامی طبی خدمات جاری رکھی گئیں۔
ٹریڈ یونینز اور حکومت کے درمیان مذاکرات کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہیں۔ یونین رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو 21 اکتوبر کو دوبارہ ہڑتال کی جا سکتی ہے۔
فرانس: تعلیمی سہولیات کی کمی کے خلاف مظاہرے
رائٹرز کے مطابق، فرانس میں تعلیمی نظام کی خراب صورتِ حال کے خلاف طلبہ کے مظاہرے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی دور کی جائے، کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد کم کی جائے اور خستہ حال تعلیمی عمارتوں کی مرمت کی جائے۔
13 اکتوبر کو فرانس کے مختلف شہروں میں احتجاجی مارچ اور اسکولوں کی ناکہ بندی کی گئی۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس روز ایک لاکھ 61 ہزار سے زائد افراد نے مظاہروں میں شرکت کی، جبکہ گزشتہ ہفتے یہ تعداد تقریباً دو لاکھ 66 ہزار تھی۔
بیشتر مظاہرے پُرامن رہے، تاہم بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، آنسو گیس استعمال کی گئی اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی سامنے آئے۔
احتجاج کی ایک بڑی وجہ تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری کی کمی اور سرکاری مالی وسائل پر دباؤ بھی ہے، جس کے باعث حکومت کے لیے مظاہرین کے مطالبات پورے کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
البانیہ: طلبہ کا احتجاج پرتشدد، سرکاری عمارت اور بینکوں میں آگ
رائٹرز کے مطابق، البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں 14 اکتوبر کو ہزاروں طلبہ نے تعلیمی اخراجات میں اضافے، جامعات کی سہولیات کی کمی اور مبینہ بدعنوانی کے خلاف احتجاج کیا۔
مظاہرے کے دوران بعض افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا، جبکہ وزارتِ تعلیم کی عمارت اور دو بینکوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مالی معاونت کی کمی اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کے محدود مواقع ان کے بنیادی مسائل ہیں۔ بعض مظاہرین نے وزیراعظم ایڈی راما سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
البانوی حکومت نے پُرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی مذمت کی ہے۔ پولیس نے بھی خبردار کیا ہے کہ تشدد، آتش زنی اور اہلکاروں پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اسپین: تنخواہوں میں اضافے کے لیے اساتذہ کی ہڑتال
رائٹرز کنیکٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں 14 اکتوبر کو اساتذہ نے بہتر کام کے حالات، تعلیمی بجٹ میں اضافے، کلاسوں میں طلبہ کی تعداد کم کرنے اور تنخواہوں میں اضافے کے مطالبات کے لیے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کی۔
اساتذہ کی تنظیموں نے ماہانہ تنخواہوں میں 600 یورو تک اضافے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ طلبہ بھی احتجاج میں شریک ہوئے اور شہر کی بعض اہم سڑکیں بند کر دیں۔
پولیس کے مطابق مظاہروں کے دوران پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا اور چھ افراد زخمی ہوئے، جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
میڈرڈ کی علاقائی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ تعلیمی عملے کے 44 فیصد ارکان ہڑتال میں شریک ہوئے۔ حکومت نے احتجاج کو سیاسی نوعیت کا قرار دیا، جبکہ اساتذہ کی تنظیمیں تعلیمی سہولیات اور ملازمت کے حالات میں بہتری پر زور دے رہی ہیں۔
احتجاجی لہر کے پیچھے بنیادی عوامل
مختلف ممالک میں احتجاج کی وجوہات الگ الگ ہیں، تاہم مہنگائی، تنخواہوں اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق، تعلیمی شعبے میں مسائل اور حکومتوں سے عدم اطمینان نمایاں عوامل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
آئرلینڈ میں ملازمین تنخواہوں کے نئے معاہدے کا مطالبہ کر رہے ہیں، فرانس اور اسپین میں تعلیمی نظام کی بہتری اور اساتذہ کے حقوق اہم موضوعات ہیں، جبکہ البانیہ میں تعلیمی اخراجات کے ساتھ بدعنوانی کے خلاف غصہ بھی احتجاج کا سبب بنا ہے۔



