جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے شہباز شریف کی پیش کردہ تمام تجاویز مان لی تھیں لیکن اس کے باوجود صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔
پشاور میں جے یو آئی کے سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ریاست کو بدنام کرنے میں حکمرانوں کا اپنا کردار ہے، ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے لیکن حکمرانوں کے طرز عمل کے باعث اس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے کا کہا کہ اس سرزمین پر قرآن و سنت کے نفاذ کے لیے آئین بنایا گیا تھا، جبکہ حکومت گورنر راج اور ایمرجنسی کے لیے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کا حوالہ تو دے رہی ہے لیکن اسے آرٹیکل 2 کے ساتھ بھی پڑھنا چاہیے، جس میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی قرار دی گئی ہے اور نظام عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے چلانے کا ذکر ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت تبدیل کرنے کے بھی آئینی طریقے ہوتے ہیں، جبکہ ہم ملک میں صحت مند سیاست چاہتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کو آزادانہ کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مارچ کے مطالبات میں کوئی بڑی بات نہیں تھی، صرف عمران خان سے ملاقات اور عدالتی فیصلے کے مطابق علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاملات کشیدہ ہوئے تو حکومت کی جانب سے ان سے مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی۔ حکومتی وفد بھی ان کے پاس آیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں کھانے پر مدعو کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم سے واضح کیا تھا کہ وہ کوئی خفیہ ملاقات نہیں کریں گے بلکہ بات چیت کھل کر ہوگی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات میں انہیں مسئلے کے حل کا طریقہ بتایا، جس پر انہوں نے پی ٹی آئی قیادت سے بات کی اور پی ٹی آئی نے من و عن اس تجویز کو قبول کر لیا تھا۔ پھر میں نے اپنی اور پی ٹی آئی کی تجاویز وزیراعظم کے سامنے رکھیں، جنہیں وزیراعظم نے تحریری طور پر نوٹ بھی کیا اور مجھے خوشی خوشی رخصت کیا۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ یہ تجاویز کابینہ کے سامنے پیش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں حکومتی وزرا نے دعویٰ کیا کہ کابینہ اجلاس میں ان کی گفتگو پر کوئی بات نہیں ہوئی، جبکہ اسی رات اسحاق ڈار نے فون کرکے بتایا کہ کابینہ تجاویز سے اتفاق نہیں کر رہی۔ جبکہ حقیقت میں تجاویز کابینہ میں پیش ہی نہیں کی گئیں تو انہیں مسترد کرنے کا سوال کیسے پیدا ہوتا ہے؟
جے یو آئی سربراہ نے حکومت کے طرز عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بڑے مناصب پر بیٹھے افراد عوام کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں اور حکومتی بیانیے میں تضاد سامنے آگیا ہے، سیاست جھوٹ کے بجائے شفافیت سے کی جانی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے دہشت گردی کے لیے نرم گوشہ رکھنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسلح جدوجہد کی مخالفت کرنے والی واحد جماعت جمعیت علمائے اسلام ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کے پرانے اور دقیانوسی حربے کامیاب نہیں ہوں گے۔ اور ہم تشدد پر یقین نہیں رکھتے، لیکن اگر ہمیں آزمانے کی کوشش کی گئی تو ہمارے کارکنوں کی سیاسی طاقت کا اندازہ ہوجائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک ہمارا ہے اور اپنے فیصلے ہم نے خود کرنے ہیں، کسی کے اکسانے پر اشتعال میں نہیں آئیں گے۔



