دبئی نے اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا سیاحتی لائلٹی پروگرام متعارف کرادیا ہے، جس کا مقصد امارت میں بار بار جانے والے سیاحوں کو انعامات اور خصوصی سہولیات فراہم کرنا اور دبئی کی دنیا کے نمایاں تفریحی و کاروباری مرکز کے طور پر حیثیت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
’دبئی ایکسیس کلب‘ کے نام سے شروع ہونے والے اس منصوبے کا اعلان دبئی کے ولی عہد، متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم کی جانب سے کیا گیا۔
منصوبے کے تحت دنیا بھر کے لوگوں کے لیے سیاحتی ویزوں تک رسائی آسان بنائی جائے گی تاکہ مزید افراد کو دبئی آنے کی ترغیب دی جاسکے۔ شیخ حمدان بن محمد کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دبئی کو دنیا بھر کے سیاحوں کی اولین ترجیح اور سہولتوں و معیار کے حوالے سے اسے عالمی مثال بنانا ہے۔
View this post on Instagram
یہ منصوبہ ایران جنگ کے باعث درپیش چیلنجز کے اثرات کم کرنے اور دبئی کے سیاحتی شعبے کی ترقی تیز کرنے کے لیے حکومت کے تازہ اقدامات کا حصہ ہے۔
شیخ حمدان نے منصوبے کے بار میں بتایا کہ دبئی کو دنیا کے تین بڑے سیاحتی مقامات میں شامل کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں جن سے سیاحوں کے لیے سہولیات ، مہمان نوازی اور خدمات کے نئے معیار قائم کیے جائیں گے۔
ان کے مطابق ٹیکنالوجی کے استعمال، جدت کے فروغ اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان شراکت داری سے مزید سرمایہ کاری راغب کرنے، نئے مواقع پیدا کرنے اور دبئی کی معیشت میں سیاحت کے شعبے کا کردار بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ اقدامات دبئی کے اقتصادی ایجنڈے ڈی 33 سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔
سیاحوں کے لیے خصوصی ممبرشپ پروگرام
دبئی میڈیا آفس کے مطابق یہ دنیا کا پہلا ایسا سیاحتی ممبرشپ پروگرام ہے جسے کسی شہر کی حکومت نے متعارف کرایا ہے اور اس میں صرف دعوت نامے کے ذریعے شمولیت ممکن ہوگی۔
مشترکہ ڈیجیٹل چینلز انیشی ایٹو کے تحت مزید سرکاری خدمات، بشمول سیاحتی ویزوں کی درخواستیں، دبئی کی سرکاری سیاحتی ویب سائٹ ’وزٹ دبئی‘ میں شامل کی جارہی ہیں۔
اب ’وزٹ دبئی‘ کے ذریعے سنگل انٹری اور ملٹی پل انٹری سیاحتی ویزوں کے لیے درخواستیں دی جاسکیں گی، جبکہ مستقبل میں ویزوں کی مزید اقسام بھی متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔
ویزا درخواستوں کی جانچ پڑتال اور اجرا کی ذمہ داری بدستور جی ڈی آر ایف اے کے پاس ہوگی۔ ان خدمات کے حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
سیاحت کے شعبے کی بحالی
دبئی میں سیاحوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اگست میں دبئی آنے والے بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد 8 لاکھ 69 ہزار رہی، جو فروری کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
اگست میں دبئی کے ہوٹلوں میں کمروں کی بکنگ کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ایران جنگ کے پہلے مکمل مہینے مارچ میں یہ شرح صرف 36 فیصد تھی۔
رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران دبئی میں مجموعی طور پر 69 لاکھ 70 ہزار بین الاقوامی سیاح آئے۔ 2025 میں یہ تعداد ایک کروڑ 95 لاکھ 90 ہزار تھی۔
توقع کی جارہی تھی کہ دبئی رواں سال 2 کروڑ سیاحوں کی آمد کا اپنا پرانا ہدف حاصل کرلے گا، تاہم خطے میں جاری تنازع کے باعث یہ ہدف متاثر ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل دبئی حکومت نے ایک اور سیاحتی منصوبہ بھی شروع کیا تھا، جس کے تحت دبئی آنے کے لیے اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو مدعو کرنے والے مقامی رہائشیوں کو 3 ہزار درہم (816 ڈالر) تک کی رعایتیں دی جارہی تھیں۔ اس مہم کے لیے رجسٹریشن ستمبر میں بند کردی گئی، جس کے دوران 90 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔
دبئی انوائٹ نامی اس مہم کے تحت ہوٹلوں میں قیام پر رعایت اور سیاحتی مقامات پر مفت تفریح جیسی سہولتیں فراہم کی گئی تھیں تاکہ سیاحت کے شعبے کو فروغ دیا جاسکے۔
مئی میں دبئی حکومت نے غیر یقینی معاشی حالات کے دوران کاروباری اور سیاحتی شعبوں کو سہارا دینے کے لیے ڈیڑھ ارب درہم کے اقتصادی مراعاتی پیکیج کی منظوری بھی دی تھی۔
اس پیکیج میں ہوٹلوں پر فی رات عائد 20 درہم کا سیاحتی ٹیکس اور ہوٹلوں و ریسٹورنٹس کے بلوں پر عائد 7 فیصد میونسپل ٹیکس عارضی طور پر معطل کرنا بھی شامل تھا۔
