پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کا پہلا بوئنگ 9-787 ڈریم لائنر پاکستان پہنچ گیا جس کے ساتھ ہی قومی ایئرلائن کے بیڑے میں جدید وائیڈ باڈی طیارے کی شمولیت کا آغاز ہوگیا۔
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق طیارہ لندن سے پی آئی اے کی پرواز پی کے 786 بن کر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا جہاں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر وائس مارشل عامر حیات نے طیارے کا استقبال کیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ بوئنگ 9-787 ڈریم لائنر جدید ٹیکنالوجی، دورانِ پرواز تفریحی نظام اور کشادہ و آرام دہ کیبن سے لیس ہے۔ طیارے کی شمولیت پی آئی اے کی آپریشنز کو جدید بنانے اور مسافروں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
Pakistan’s and PIA’s first Boeing 787-9 touches down in Islamabad, marking a significant milestone in our journey towards transformation, fulfilling our resolve for bringing newer fleet and providing greater flying comfort & better experience to our guests.
The event also imaugurates the resumption of PIA’s daily service to London Heathrow from Islamabad & Lahore.
— PIA (@Official_PIA) November 1, 2026
پی آئی اے نے اکتوبر میں ناروے کی ایئرلائن نورس اٹلانٹک ایئرویز کے ساتھ دو بوئنگ 9-787 ڈریم لائنر حاصل کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ یہ معاہدہ ایئرکرافٹ، کریو، مینٹیننس اور انشورنس (ACMI) انتظام کے تحت کیا گیا جسے عام طور پر ویٹ لیز کہا جاتا ہے۔
معاہدے کے تحت نورس اٹلانٹک طیاروں کے ساتھ عملہ، دیکھ بھال اور انشورنس کی سہولیات بھی فراہم کرے گی۔ اس انتظام سے پی آئی اے کو تمام آپریشنل ضروریات خود ترتیب دیے بغیر طویل فاصلے کی پروازوں کی گنجائش بڑھانے میں مدد ملے گی۔
ایئرلائن کے مطابق اس معاہدے کا مقصد پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی سفری طلب پوری کرنا اور بین الاقوامی آپریشنز کو وسعت دینا ہے۔
پی آئی اے کے پہلے اعلان کے مطابق لیز پر حاصل کیے گئے طیارے لندن ہیتھرو اور مانچسٹر سے اسلام آباد اور لاہور کے لیے پروازوں میں مدد فراہم کریں گے۔
پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو عامر حیات نے کہا تھا کہ یہ شراکت داری برطانیہ کے روٹس پر ایئرلائن کی گنجائش بڑھانے، مسافروں کو مزید سفری آپشنز اور بہتر رابطے فراہم کرنے میں معاون ہوگی۔
#PIA and @flynorse sign a partnership agreement for the lease of @BoeingAirplanes 787-900 Dreamliners, the first of their kind in Pakistan, to supplement PIA’s #UK operations.
The addition of Boeing 787 Dreamliners mark the begining of PIA’s expansion and new management’s committment to provide world class services to our valued customers. The aircraft are expected to join PIA in Nov ’26.
— PIA (@Official_PIA) October 9, 2026
نورس اٹلانٹک کے چیف ایگزیکٹو ایونڈ روالڈ نے بھی معاہدے کو دیگر ایئرلائنز کے ساتھ اے سی ایم آئی شراکت داریوں کے ذریعے طیاروں کے استعمال کو کمپنی کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا تھا۔
View this post on Instagram
اس سے قبل وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا تھا کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے کے لیے نئے طیاروں کی خریداری کی خاطر حکومت کی جانب سے کسی قرض یا خودمختار ضمانت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
وزارت خزانہ کے مشیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ حکومت نہ تو پی آئی اے کے لیے طیارے خرید رہی ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کسی سرکاری ضمانت یا ٹیکس دہندگان کے پیسے سے قرض کی فراہمی کا اعلان کیا گیا ہے۔
𝗟𝗲𝘁’𝘀 𝗴𝗲𝘁 𝘁𝗵𝗲 𝗳𝗮𝗰𝘁𝘀 𝘀𝘁𝗿𝗮𝗶𝗴𝗵𝘁 𝗼𝗻 𝗣𝗜𝗔 𝗮𝗻𝗱 𝗨𝗦 𝗘𝗫𝗜𝗠.
Some commentary being circulated appears to misunderstand both privatisation and the role of an export credit agency.
𝙏𝙝𝙚 𝙂𝙤𝙫𝙚𝙧𝙣𝙢𝙚𝙣𝙩 𝙞𝙨 𝙣𝙚𝙞𝙩𝙝𝙚𝙧 𝙗𝙪𝙮𝙞𝙣𝙜 𝙖𝙞𝙧𝙘𝙧𝙖𝙛𝙩 𝙛𝙤𝙧 𝙖 𝙥𝙧𝙞𝙫𝙖𝙩𝙞𝙨𝙚𝙙 𝙋𝙄𝘼 𝙣𝙤𝙧 𝙝𝙖𝙨 𝙞𝙩 𝙖𝙣𝙣𝙤𝙪𝙣𝙘𝙚𝙙 𝙖𝙣𝙮 𝙨𝙤𝙫𝙚𝙧𝙚𝙞𝙜𝙣 𝙜𝙪𝙖𝙧𝙖𝙣𝙩𝙚𝙚 𝙤𝙧 𝙩𝙖𝙭𝙥𝙖𝙮𝙚𝙧-𝙛𝙪𝙣𝙙𝙚𝙙 𝙡𝙤𝙖𝙣 𝙛𝙤𝙧 𝙙𝙤𝙞𝙣𝙜 𝙨𝙤.
US EXIM’s mandate, like export credit agencies elsewhere, is to support its country’s exports and jobs. Boeing aircraft are US exports. US EXIM provides financing support to foreign purchasers of US-manufactured aircraft, including airlines, through established financing structures.
US EXIM’s own framework provides for asset-backed aircraft financing, where financing can be secured against the aircraft itself and credit assessed on the airline/lessee and/or guarantor, if any. 𝘼 𝙨𝙤𝙫𝙚𝙧𝙚𝙞𝙜𝙣 𝙜𝙪𝙖𝙧𝙖𝙣𝙩𝙚𝙚 𝙞𝙨 𝙩𝙝𝙚𝙧𝙚𝙛𝙤𝙧𝙚 𝙣𝙤𝙩 𝙖𝙣 𝙖𝙪𝙩𝙤𝙢𝙖𝙩𝙞𝙘 𝙧𝙚𝙦𝙪𝙞𝙧𝙚𝙢𝙚𝙣𝙩.
𝗦𝗼 𝘄𝗵𝗮𝘁 𝗶𝘀 𝘁𝗵𝗲 𝗚𝗼𝘃𝗲𝗿𝗻𝗺𝗲𝗻𝘁 𝗱𝗼𝗶𝗻𝗴?
Exactly what governments around the world are expected to do for their businesses: 𝙤𝙥𝙚𝙣𝙞𝙣𝙜 𝙙𝙤𝙤𝙧𝙨, 𝙛𝙖𝙘𝙞𝙡𝙞𝙩𝙖𝙩𝙞𝙣𝙜 𝙖𝙘𝙘𝙚𝙨𝙨 𝙩𝙤 𝙞𝙣𝙩𝙚𝙧𝙣𝙖𝙩𝙞𝙤𝙣𝙖𝙡 𝙛𝙞𝙣𝙖𝙣𝙘𝙞𝙣𝙜, 𝙩𝙚𝙘𝙝𝙣𝙤𝙡𝙤𝙜𝙮 𝙖𝙣𝙙 𝙨𝙪𝙥𝙥𝙡𝙞𝙚𝙧𝙨, 𝙖𝙣𝙙 𝙥𝙧𝙤𝙢𝙤𝙩𝙞𝙣𝙜 𝙞𝙣𝙫𝙚𝙨𝙩𝙢𝙚𝙣𝙩 𝙖𝙣𝙙 𝙘𝙤𝙢𝙢𝙚𝙧𝙘𝙞𝙖𝙡 𝙤𝙥𝙥𝙤𝙧𝙩𝙪𝙣𝙞𝙩𝙞𝙚𝙨.
The Finance Minister’s engagement with US EXIM was not even confined to PIA. It covered potential financing across 𝙖𝙫𝙞𝙖𝙩𝙞𝙤𝙣, 𝙧𝙚𝙛𝙞𝙣𝙚𝙧𝙮 𝙪𝙥𝙜𝙧𝙖𝙙𝙚𝙨 𝙖𝙣𝙙 𝙍𝙚𝙠𝙤 𝘿𝙞𝙦 (𝙢𝙞𝙣𝙞𝙣𝙜) as part of a much broader Pakistan-US economic engagement.
And this is entirely consistent with Pakistan’s economic direction. The Government is deliberately reducing the State’s role in commercial activity, pursuing privatisation and creating greater space for private capital. Private-sector-led growth does not mean Government abandons the private sector; it means Government enables it rather than running businesses itself.
Therefore, claims of a “𝙥𝙪𝙗𝙡𝙞𝙘 𝙡𝙤𝙖𝙣,” “𝙝𝙞𝙙𝙙𝙚𝙣 𝙨𝙪𝙗𝙨𝙞𝙙𝙮,” “𝙨𝙩𝙖𝙩𝙚 𝙗𝙖𝙘𝙠𝙨𝙩𝙤𝙥” 𝙤𝙧 𝙩𝙖𝙭𝙥𝙖𝙮𝙚𝙧𝙨 𝙖𝙨𝙨𝙪𝙢𝙞𝙣𝙜 𝙋𝙄𝘼’𝙨 𝙘𝙤𝙢𝙢𝙚𝙧𝙘𝙞𝙖𝙡 𝙧𝙞𝙨𝙠 should not be presented as facts when no such arrangement has been announced. The official statement refers to potential US EXIM financing support; it does not announce Government borrowing for PIA or a sovereign guarantee.
Privatisation transfers ownership and commercial management. It does not require the Government of Pakistan to stop opening doors for Pakistani companies.
𝗧𝗵𝗲 𝗱𝗶𝘀𝘁𝗶𝗻𝗰𝘁𝗶𝗼𝗻 𝗶𝘀 𝘀𝘁𝗿𝗮𝗶𝗴𝗵𝘁𝗳𝗼𝗿𝘄𝗮𝗿𝗱:
– 𝙂𝙤𝙫𝙚𝙧𝙣𝙢𝙚𝙣𝙩 𝙛𝙖𝙘𝙞𝙡𝙞𝙩𝙖𝙩𝙚𝙨.
– 𝘽𝙪𝙨𝙞𝙣𝙚𝙨𝙨𝙚𝙨 𝙞𝙣𝙫𝙚𝙨𝙩 𝙖𝙣𝙙 𝙤𝙥𝙚𝙧𝙖𝙩𝙚.
– 𝙁𝙞𝙣𝙖𝙣𝙘𝙞𝙣𝙜 𝙞𝙨 𝙨𝙩𝙧𝙪𝙘𝙩𝙪𝙧𝙚𝙙 𝙤𝙣 𝙞𝙩𝙨 𝙤𝙬𝙣 𝙘𝙤𝙢𝙢𝙚𝙧𝙘𝙞𝙖𝙡 𝙩𝙚𝙧𝙢𝙨.That is entirely consistent with successful privatisation — and with the broader agenda of a private-sector-led economy for sustainable, inclusive and responsible growth.
@Financegovpk @PrivComPakistan @GovtofPakistan @PakPMO
@MoIB_Official#PIA #Privatisation #USEXIM #PrivateSectorLedGrowth #PakistanEconomy
— Khurram Schehzad (@kschehzad) September 27, 2026
بوئنگ 9-787 ڈریم لائنر طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے تیار کیا گیا 2 انجنوں والا وائیڈ باڈی طیارہ ہے جسے ایندھن کی بچت اور مسافروں کے آرام کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کے آپریشنز میں شامل ہونے والے طیارے میں 358 مسافروں کی گنجائش ہے۔
پی آئی اے نے حال ہی میں معروف فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین، جنہیں ایچ ایس وائی (HSY) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو نئے کیبن کریو یونیفارمز ڈیزائن کرنے کے لیے منتخب کیا تھا۔ ایئرلائن کے اعلان کے مطابق نئے یونیفارمز 31 اکتوبر سے استعمال میں آنا تھے جبکہ ان کا پہلا استعمال نئے بوئنگ 9-787 ڈریم لائنر کی لندن سے اسلام آباد آنے والی افتتاحی پرواز پر ہونا تھا۔
