ایران نے امریکا کے ساتھ تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کا اعلان کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ جاری تنازع کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تہران مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرے گا۔
Iranian President Masoud Pezeshkian said Monday that the country’s supreme leader Mojtaba Khamenei had granted the government “certain authorities” regarding peace talks with Washington, Iranian state media reported.
Pezeshkian added that Iran would seek to resolve the conflict with the United States through dialogue.
https://t.co/RhcmeinD6Y— Iran International English (@IranIntl_En) November 2, 2026
مسعود پزشکیان نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق کہا کہ انہوں نے امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کے حوالے سے حکومت کو بعض خصوصی اختیارات دے دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر کی جانب سے دیئے گئے اختیارات کے تحت حکومت امن مذاکرات کے معاملے پر اقدامات کرسکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس پیش رفت کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم حکومت کو دیئے گئے اختیارات کی نوعیت اور دائرہ کار سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ جنگ کے ذریعے دشمن ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکتا اور جنگ کے ذریعے ایران کو جھکانے یا اپنی شرائط منوانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
Iranian President Masoud Pezeshkian says that “enemies cannot force Iran to surrender through war”.
Read more: https://t.co/hsIZlcMeHk https://t.co/E6SwY3y5VY
— Roya News English (@RoyaNewsEnglish) November 2, 2026
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے مگر پک ایکس ماؤنٹین سمیت اب صرف ایک یا دو مقامات باقی ہیں جن سے نمٹنا 10 منٹ کا کام ہے۔



