سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور جنوبی علاقے میں 3 میزائلوں کو فضا ہی میں روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی اہم تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے جواب میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثی جنگجووں کیخلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
سعودی اتحادی فوج کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ریاض اور جنوبی علاقے میں 2 ڈرونز کو روک کر تباہ کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاض میں میزائلوں کا ملبہ گرنے سے 4 افراد زخمی ہو گئے جبکہ 15 مکانات کو معمولی نقصان پہنچا۔
التحالف:
اعتراض وتدمير صاروخ باليستي أطلقته الميليشيا الحوثية الإرهابية باتجاه حرض.
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 13, 2026
سعودی اتحاد کے ترجمان نے مزید کہا کہ ریاض صوبے کی وادی الدواسر اور السلیل گورنریٹس میں خطرہ ٹل گیا ہے۔
علاوہ ازیں گلف نیوز نے سعودی وزارت توانائی کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب میں میزائل حملوں کے دوران مشرقی شہر ظہران میں تیل کمپنی کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جہاں محدود پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
قبل ازیں سعودی اتحادی فوج کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کی سعودی شہر ظہران پر میزائل حملے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔
گزشتہ روز سعودی فوجی اتحاد نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں خصوصی آپریشن کی تیاری کرتے ہوئے شہریوں کو انخلا کا عندیہ دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اتحادی فوج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ کہ صنعاء میں مجوزہ خصوصی آپریشن سے پہلے متعلقہ مقام پر موجود شہریوں کو انخلا کی ہدایت جاری کی جائے گی۔
دوسری جانب حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی اتحاد کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر صنعاء پر حملے کیے گئے تو اس کا جواب سعودی دارالحکومت ریاض میں دیا جائے گا۔
تهيب القوات المسلحة اليمنية بجميع المواطنين بالإخلاء الفوري والابتعاد عن الأهداف التى ستقوم قواتنا المسلحة باستهدافها في حال أقدم العدو السعودي على استهداف ما أعلن عنه في العاصمة صنعاء
مقر شركة أرامكو في الدمام
مطار خالد في الرياض
مصفاة الرياض التابعة لشركة أرامكو— العميد/ يحيى سريع (@Yah_Saree) October 13, 2026
واضح رہے کہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 2 روز کے دوران ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 14 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے، سعودی حکام نے فضائی دفاعی نظام کی ناکامی کے اسباب جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
خبر رساں اداروں رائٹرز اور الجزیرہ کے مطابق حوثیوں نے 10 اکتوبر کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے مہلک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
اس کے بعد 11 اکتوبر کو بھی ایئرپورٹ کے ٹرمینل کو نشانہ بنایا گیا، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور مزید جانی نقصان ہوا۔
حملوں کے بعد متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے ریاض کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کر دیں۔ اتحاد ایئرویز نے ریاض کے علاوہ دمام اور جدہ کے لیے بھی پروازیں روکنے کا اعلان کیا، جبکہ گلف ایئر نے ریاض کی پروازیں ہفتے تک منسوخ کر دیں۔



