سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گزشتہ روز ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔
یاد رہے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گزشتہ روز ہونے والا حملہ رواں ہفتے اس ہوائی اڈے پر تیسرا حملہ تھا۔
🚨🇸🇦 Houthi attack sets Riyadh airport in flames and kills 12
It’s the deadliest attack on a Gulf Arab state since the regional war began in February.
The strike left 50 more injured and grounded all flights at King Khalid International Airport.
Desperate to control the narrative, the Saudi Interior Ministry officially made it a criminal offense to film missile strikes or share footage of impact sites.
Saudi Arabia claims the Bab al Mandab Strait is cleared, yet the Houthi blockade holds.
This hits directly at Crown Prince Mohammed bin Salman’s multi trillion dollar plans to turn Riyadh into a global business hub.
Writer: Bri https://t.co/XYR3VdcxT5
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) October 10, 2026
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حوثی حملے سے ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سعودی عرب کے 4، بنگلا دیش کے 2 جبکہ امریکا، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔
حکام کے مطابق حملے کے بعد زخمیوں کو ایمبولینسوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر 2026 کو ہونے والا حملہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملہ تھا۔ حملے سے قبل سعودی عرب کے خطرے سے خبردار کرنے والے نظام کی جانب سے کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔
واضح رہے رواں ہفتے ہوائی اڈے پر ہونے والے پہلے دو حملوں میں بھی 4 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ رن وے پر کھڑے سعودی کمرشل طیارے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
سعودی اتحاد کا جوابی کارروائی کا اعلان
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حوثی حملے کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
سعودی عرب اور یمن کی حکومت کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں سینکڑوں حملے کیے گئے ہیں۔ حوثیوں کے مطابق ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت شہری بھی ہلاک ہوئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔
حوثیوں کے میڈیا دفتر کے سربراہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ گروپ نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بند کردیا ہے۔
حوثیوں نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی جانب سے پیر کو کارروائی شروع کیے جانے کے بعد سعودی فضائی حدود کو فوجی آپریشنز کا علاقہ قرار دیتے ہوئے فضائی کمپنیوں کو وہاں سے گزرنے سے گریز کرنے کا کہا تھا۔
ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف کارروائی میں شمولیت پر غور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا امریکا سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف کیے جانے والے حملوں میں شامل ہوگا؟
اس پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایسا کرسکتا ہے، تاہم اس معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان کے مطابق امریکا کو تازہ حملے کے بارے میں ابھی معلوم ہوا ہے اور فیصلہ کیا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معصوم شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا واضح مظاہرہ ہے۔
The United States strongly condemns the recent attacks on the Kingdom of Saudi Arabia by the terrorist Houthis, including today’s strike on King Khalid International Airport in Riyadh that took numerous innocent lives, including an American citizen.
These reprehensible attacks demonstrate a blatant disregard for innocent civilian life. They must stop now.
We stand with the Kingdom of Saudi Arabia and its people and extend our condolences to the victims and their families.
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) October 10, 2026
ریاض میں امریکی سفارت خانے نے بھی امریکی شہریوں کو ہوائی اڈے اور اس کے اطراف جانے سے گریز کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
ریاض آنے والی تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق گزشتہ روز ریاض آنے والی تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا اور ہوائی اڈے پر آپریشن عارضی طور پر معطل کردیا گیا۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ریاض آنے والی پروازیں یا تو منسوخ کردی گئیں یا ان کا رخ تبدیل کردیا گیا۔
رواں ہفتے حوثیوں کے حملوں کے بعد بھی متعدد فضائی کمپنیوں بشمول پی آئی اے نے سعودی دارالحکومت کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کردی تھیں۔
پاکستان کا اظہار مذمت
وزیراعظم شہبازشریف نے ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔
أدين بشدة الهجوم الشنيع الذي شنته الميليشيا الحوثية على مطار الملك خالد الدولي في الرياض. ونتقدم بأحر التعازي إلى أسر الضحايا، وندعو الله بالشفاء العاجل والتام للمصابين.
إن الهجمات التي تستهدف المدنيين والبنية التحتية الحيوية غير مقبولة إطلاقا، وتشكل تهديدا خطيرا للسلم والاستقرار الإقليميين. ويجب أن تتوقف فورا هذه الأعمال العنيفة التي تمثل انتهاكا صارخا للقانون الدولي.
تقف باكستان بثبات وتضامن راسخ إلى جانب المملكة العربية السعودية وقيادتها وشعبها الشقيق. وانطلاقا من اتفاقية الدفاع المشترك لمكة المكرمة، وروابط الأخوة الراسخة التي تجمع بلدينا، نؤكد مجددا التزامنا الثابت بسيادة المملكة العربية السعودية وسلامة أراضيها وأمنها.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 11, 2026
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ شہریوں اور تنصیبات کونشانہ بنانا ناقابل قبول اور علاقائی استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہے،پرتشدد کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں جن کی فوری روک تھام ہونی چاہیے۔
ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے بھی ریاض میں شاہ خالد ائیرپورٹ پر حملے کی شدید مذمت کی گئی، دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ریاض میں حوثی ملیشیا کے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتاہے، ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا دہشت گردی کی ایک گھناؤنی کارروائی ہے۔
🔊PR No.2️⃣8️⃣4️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Pakistan Strongly Condemns the Latest Terrorist Attack by the Houthi Militia Targeting King Khaled International Airport, Riyadh
🔗⬇️ https://t.co/rvMZkHLhp8
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 11, 2026
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ائیر پورٹ پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور علاقائی امن وسلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے، حوثی ملیشیا کا شہری آبادی اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اوراستحکام کےعزم کااعادہ کرتا ہے۔
جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کےتحفظ کے لیے پرعزم ہے،سعودی عرب کی سرزمین اور اہم تنصیبات کے دفاع کے جائز حق کی حمایت کرتے ہیں۔



