سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 دیگر افراد زخمی ہوئے۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق اتوار کو ریاض ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔ یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی افواج نے بھی بتایا کہ ایئرپورٹ کو ایک نامعلوم میزائل یا گولے سے نشانہ بنایا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حوثی حملے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ریاض میں پاکستانی سفارت خانہ سعودی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے اور متاثرہ پاکستانی خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
I am deeply saddened to learn that six Pakistani nationals got injured as a result of Houthis attack on King Khalid International Airport in Riyadh. I pray for their speedy recovery.
Our Embassy in Riyadh is in close contact with the Saudi authorities and is extending all possible assistance to the affected families.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 11, 2026
سعودی اتحاد کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو روک لیا۔ بعد ازاں مشرقی صوبے میں ایک ڈرون کو بھی تباہ کرنے اور خمیس مشیط کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل روکنے کی اطلاع دی گئی۔
التحالف :
الدفاع الجوي اعترض ودمر صاروخ طواف (كروز) في محيط مطار الملك خالد الدولي.
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 11, 2026
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق جنوبی شہر ابہا میں پیر کی صبح ایمرجنسی وارننگ جاری کیا گئی تھی، تاہم بعد میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا گیا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب سعودی عرب یمن میں حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔ حوثی باغی یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف زمینی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔
سعودی سرکاری ٹی وی کی جانب سے ہفتے کے حملے کی جاری کردہ ویڈیو میں زائرین کو دیکھا جا سکتا ہے جو عمرہ کے لیے روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔ اچانک آگ کے شعلے بھڑکے تو لوگ خوف زدہ ہو کر بھاگنے لگے، جبکہ چھت کے کچھ حصے بھی گرتے دکھائی دیے۔
🔴 Exclusive footage obtained by Al Arabiya English shows Umrah pilgrims preparing to board their flights as the Houthi attack struck Riyadh’s King Khalid International Airport. https://t.co/Ws92NujHKd
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) October 11, 2026
حملے کے بعد ایئرپورٹ بند کر دیا گیا تھا۔ سعودی حکام کے مطابق ہفتے کے حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں 4 سعودی شہری تھے، جبکہ باقی غیر ملکی تھے۔ اتوار کے واقعے کے بعد رواں ہفتے ریاض ایئرپورٹ پر حملوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 18 ہو گئی۔
حوثیوں کا دمام ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیبات پر بھی حملوں کا دعویٰ
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اتوار کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں ہفتے کے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں دمام ایئرپورٹ اور سعودی تیل کمپنی آرامکو کی 2 تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اتوار کی رات دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نقصان کا جائزہ لینے اور ہوائی اڈے کی تنصیبات کی سلامتی جانچنے کا عمل جاری ہے۔
#Statement | Follow-up on the attack targeting King Khalid International Airport in Riyadh.
#GACA https://t.co/L7aaMrvj9P
— هيئة الطيران المدني (@ksagaca) October 11, 2026
دمام ایئرپورٹ پر موجود ایک طیارے میں سوار عینی شاہد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے 8 بجے کے قریب ایک میزائل یا گولا وہاں کھڑے کئی طیاروں کے قریب رن وے پر گرا، جس سے آگ لگ گئی۔ ان کے مطابق طیارہ واپس گیٹ پر لایا گیا، مسافروں کو اتارا گیا اور وہاں سے نکلنے کی ہدایت کی گئی۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اتوار کو دمام ایئرپورٹ سے آنے اور جانے والی متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں یا منسوخ کر دی گئیں۔
حوثیوں نے اتوار کو سعودی ایئرپورٹس استعمال کرنے کے خلاف ایک بار پھر وارننگ جاری کی۔ گروپ نے کہا کہ اس کی وارننگز کو سنجیدگی سے لیا جائے اور حملوں کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری سعودی عرب پر ہو گی۔
سعودی عرب میں برطانوی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ جدہ، دمام اور مملکت کے دیگر ایئرپورٹس سے سفر کرنے سے گریز کریں۔ اس ہدایت میں مدینہ ایئرپورٹ کو استثنیٰ دیا گیا تھا۔
11 October 2026: Update to FCDO Travel Advice for Saudi Arabia.
To read our travel advice, please visit https://t.co/dkWmWSU8gi https://t.co/ZPOz2tSNog
— UK in Saudi Arabia 🇬🇧🇸🇦 (@UKinSaudiArabia) October 11, 2026
امریکی فضائی حکام نے بھی امریکی ایئرلائنز کو سعودی عرب کے لیے یا اس کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کے دوران احتیاط برتنے کا نوٹس جاری کیا۔
حوثیوں کی سعودی عرب کو مزید حملوں کی دھمکی
حوثیوں کے زیرِ انتظام یمن کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن میں 124 فضائی حملے کیے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹی وی چینل المسیرہ پر نشر کیے گئے بیان میں وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے یمن میں اپنی کارروائیاں اور مداخلت بند نہ کی تو اس سے بھی زیادہ سخت نتائج سامے آئیں گے۔
سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں یمن میں اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھائی ہیں۔ گزشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر کے ساحل پر اہم علاقے پر قبضے کے بعد سعودی عرب نے ان کے خلاف فضائی حملے کیے اور یمنی حکومت کی جوابی کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا تھا کہ امریکا حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ یہ تنازع ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے پھیلاؤ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
سمو وزير الخارجية الأمير #فيصل_بن_فرحان @FaisalbinFarhan يتلقى اتصالًا هاتفيًا من معالي وزير خارجية الجمهورية الإسلامية الإيرانية عباس عراقجي. https://t.co/9md0FfdS4B
— وزارة الخارجية 🇸🇦 (@KSAMOFA) October 11, 2026
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ انہوں نے اپنے سعودی ہم منصب سے گفتگو میں کہا ہے کہ تہران سعودی عرب اور یمن کے درمیان بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
ریاض میں توانائی کانفرنس جاری، اسکولوں میں آن لائن کلاسز
حملوں کے باوجود عالمی توانائی تنظیم ڈبلیو پی سی انرجی کی 5 روزہ کانفرنس اتوار کو ریاض کے ایک کنونشن سینٹر میں طے شدہ پروگرام کے مطابق شروع ہوئی، جو ایئرپورٹ سے تقریباً 10 کلومیٹر دور ہے۔
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق انٹرنیشنل انرجی فورم کا وزارتی اجلاس بھی منعقد ہوا، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کن ممالک کے وزرا نے شرکت کی۔ کانفرنس کی شریک میزبان اٹلی کے وزیر توانائی گلبرٹو پیکیٹو فراٹن نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کریں گے۔
A survivor of the Houthi attack on Riyadh’s King Khalid International Airport recalls witnessing his brother being thrown into the air by the missile strike before falling in front of him, as he calls on the international community to act and demands justice for the victims. https://t.co/W8xKvLpmqG
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) October 11, 2026
جرمن حکام وزیرِ معیشت کترینا رائخے کی وطن واپسی کے لیے پرواز کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کی پیر کو برلن واپسی متوقع تھی، لیکن جرمن وزارت کے مطابق پرواز روانہ نہ ہو سکنے کا امکان تھا۔
دوسری جانب سعودی حکام نے اعلان کیا کہ ریاض کے اسکولوں میں اتوار سے جمعرات تک بالمشافہ تدریس کے بجائے آن لائن تعلیم دی جائے گی۔
