سعودی عرب میں ریاض ائیر پورٹ حوثی حملوں کے بعد مسلسل تیسرے روز بھی بند رہا، 82 فیصد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں کے ہفتے اور اتوار کو ہونے والے مہلک حملوں کے بعد سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی معطلی میں توسیع کر دی گئی ہے جبکہ پیر کو فضائی آپریشنز شدید متاثر رہے اور بڑی تعداد میں پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ایئرپورٹ کی تنصیبات کی حفاظت اور آپریشنل تیاری یقینی بنانے کے لیے پروازوں کی معطلی جاری رکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہفتے کو ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ اتوار کو ایک اور حملے میں ایک شخص ہلاک اور تقریباً ایک درجن افراد زخمی ہوئے۔ ان واقعات کو سعودی عرب میں ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران مہلک ترین حملوں میں شمار کیا گیا ہے۔
ریاض ایئرپورٹ کی 82 فیصد پروازیں منسوخ
فضائی امور کے تجزیاتی ادارے سرئیم کے مطابق پیر کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے تک ریاض ایئرپورٹ کی طے شدہ پروازوں میں سے 82 فیصد منسوخ ہو چکی تھیں جبکہ حتمی تعداد اس سے زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
سرئیم کے مطابق سعودی عرب کے تمام ایئرپورٹس پر مجموعی طور پر 46.4 فیصد پروازیں منسوخ ہوئیں۔
فلائٹ ریڈار 24 کے فضائی ٹریفک ڈیٹا کے مطابق طیارے ریاض کی فضائی حدود سے گریز کرتے دکھائی دیے تاہم سعودی عرب کی فضائی حدود سے دیگر طیارے گزرتے رہے اور مغربی ساحل پر واقع اہم فضائی مرکز جدہ میں پروازوں کی آمد و رفت جاری رہی۔
عالمی ایئرلائنز نے پروازیں معطل کر دیں
ریاض ایئرپورٹ کی بندش اور سکیورٹی خدشات کے باعث یورپ اور ایشیا کی متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کر دی ہیں۔
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے اتوار کو امریکی فضائی کمپنیوں کو سعودی عرب کے لیے یا اس کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔
یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے بھی جمعے کو میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات کے پیش نظر سعودی فضائی حدود سے متعلق اپنی وارننگ کا دائرہ وسیع کیا تھا۔
جرمن ایئرلائن گروپ لفتھانسہ نے ریاض کے لیے تمام پروازیں 16 اکتوبر تک منسوخ کر دی ہیں جبکہ ایئر فرانس کے ایل ایم نے سعودی دارالحکومت کے لیے اور وہاں سے اپنی پروازوں کی معطلی اکتوبر کے آخر تک بڑھا دی ہے۔
ابوظبی کی اتحاد ایئرویز نے بھی پروازوں کی منسوخی میں توسیع کی، جس سے پیر اور منگل کو ریاض، جدہ اور دمام کے لیے تقریباً 20 پروازیں متاثر ہوئیں۔
گلف ایئر نے سعودی دارالحکومت ریاض کیلئے پروازیں منسوخ کر دیں، ائیر لائن کے مطابق 12سے 17 اکتوبر تک ریاض آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
سعودی معیشت اور سرمایہ کاری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ
حوثیوں کے ساتھ بڑھتی کشیدگی نے سعودی عرب کی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
فضائی آپریشنز میں خلل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور جیٹ فیول کی بڑھتی قیمتیں پہلے ہی ایئرلائنز کے منافع پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں رواں سال 3.6 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کی وجوہات میں تیل کے شعبے کی سرگرمیوں میں کمی بھی شامل ہے۔
ریاض میں رواں ماہ ہونے والی اہم تقریبات بھی سکیورٹی صورتحال کے باعث دباؤ کا شکار ہیں، ان میں سعودی عرب کی اہم سرمایہ کاری کانفرنس اور ورلڈ پیٹرولیم کانگریس (WPC) انرجی کانگریس شامل ہیں، جن کے پروگرام سے تیل کی صنعت کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں کے نام بھی نکال دیے گئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ریاض ایئرپورٹ کی بندش اور پروازوں کی منسوخی نے سعودی عرب کے فضائی سفر، کاروباری سرگرمیوں اور بین الاقوامی روابط کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔



