قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل اپوزیشن نے گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ہم نیوزکے مطابق اپوزیشن کے چیف وہپ عامر ڈوگرنے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط ارسال کرتے ہوئے گرفتار 9 ارکان کو اجلاس میں شرکت کیلئے ایوان میں لانے کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آج شام طلب کر لیے ہیں، جن میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق حکومتی اقدامات زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی جانب سے ایمرجنسی کے اعلان کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کیلئے پیش کرنا ضروری ہے۔ دونوں ایوانوں کو 10 روز میں منظوری دینا ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے رول 108 کے تحت اسپیکر کسی زیرِ حراست رکن کو اجلاس میں شرکت کیلئے طلب کرسکتے ہیں بشرطیکہ وہ غیر ضمانتی جرم کے الزام میں زیرِ حراست ہو اور اسپیکر اس کی موجودگی ضروری سمجھیں، اجلاس ختم ہونے پررکن دوبارہ متعلقہ حکام کی تحویل میں دے دیا جاتا ہے۔
عامر ڈوگرنے خط میں اسپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گرفتار تمام ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جائیں تاکہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرسکیں اوراپنے حلقوں کی نمائندگی کا حق ادا کرسکیں۔
اپوزیشن کے مؤقف کے مطابق کسی بھی حلقے کو قومی اسمبلی میں نمائندگی سے محروم نہیں رہنا چاہیے، گرفتار ارکان کو اجلاس میں شرکت کا موقع دینا ضروری ہے تاکہ پارلیمانی کارروائی میں ان کی شرکت یقینی بنائی جاسکے۔
خط میں قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے رول 108 کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست کی ہے کہ اس کے تحت گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جائیں۔
اپوزیشن نے اسپیکرقومی اسمبلی پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا کردارادا کریں اورتمام گرفتار ارکان کی ایوان میں حاضری یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کریں۔
خط میں جن گرفتارارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، ان میں حاجی امتیاز احمد چوہدری، جمال احسن خان اور میاں غوث محمد شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ثناء اللہ خان مستی خیل، داوڑ خان کنڈی اورجنید اکبر کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
گرفتار ارکان کی فہرست میں امجد علی خان، فضل محمد خان اورعادل خان بازی بھی شامل ہیں، اپوزیشن نے ان تمام ارکان کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عامر ڈوگر کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط ایسے وقت میں ارسال کیا گیا ہے جب اپوزیشن گرفتارارکان کی پارلیمانی کارروائی میں شرکت یقینی بنانے کیلئے متحرک ہے، اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ منتخب نمائندوں کو ایوان میں اپنے حلقوں کی آواز اٹھانے کا موقع ملنا چاہیے۔



