صدر مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کل شام 6 بج کر 15 منٹ پر طلب کر لیے ہیں۔
دونوں ایوانوں سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق حکومتی فیصلوں کی آئینی منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پارلیمانی کارروائی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے کیونکہ آئین میں ان اقدامات کو برقرار رکھنے کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری سے متعلق الگ الگ طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے۔
ایمرجنسی کا نفاذ، آئین کا آرٹیکل 232 کیا کہتا ہے؟
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا اعلان آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت کیا گیا ہے۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق اگر صدر مملکت اپنی جانب سے ایمرجنسی کا اعلان کریں تو اس اعلان کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔
آرٹیکل 232 کے تحت ایسی صورت میں قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں کو 10 روز کے اندر ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری دینا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آئین کے مطابق اعلان کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے بھی پیش کیا جانا ضروری ہے، جس کے لیے 30 روز کے اندر اجلاس طلب کیا جانا چاہیے۔
ایمرجنسی کا اعلان مشترکہ اجلاس کی قرارداد سے منظور نہ ہونے کی صورت میں دو ماہ بعد مؤثر نہیں رہتا۔ اس لیے ایمرجنسی کے نفاذ کو برقرار رکھنے کے لیے مقررہ آئینی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے۔
گورنر راج کے لیے آئینی طریقہ کار کیا ہے؟
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت کیا گیا ہے۔ یہ شق اس صورت حال سے متعلق ہے جب کسی صوبے میں آئین کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہے۔
اس آرٹیکل کے تحت صدر مملکت صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں یا گورنر کو اپنی جانب سے ان اختیارات کے استعمال کی ہدایت دے سکتے ہیں، آئین میں صوبائی اسمبلی کے اختیارات کو پارلیمنٹ یا اس کی اتھارٹی کے تحت استعمال کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔
آرٹیکل 234 کے تحت جاری ہونے والے اعلان کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔ مشترکہ اجلاس کی منظوری نہ ملنے کی صورت میں یہ اعلان دو ماہ بعد مؤثر نہیں رہتا۔
گورنر راج میں توسیع کے لیے مشترکہ اجلاس مزید قراردادیں منظور کر سکتا ہے تاہم ہر قرارداد کے ذریعے زیادہ سے زیادہ دو ماہ کی توسیع دی جا سکتی ہے اور گورنر راج کی مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
دونوں آئینی شقوں میں کیا فرق ہے؟
آئین کے آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 کے تحت پارلیمانی منظوری کے طریقہ کار میں فرق ہے۔
آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی جانب سے ایمرجنسی کے اعلان کی صورت میں دونوں ایوانوں کی منظوری کے لیے 10 روز کی مدت مقرر ہے جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کو برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ اجلاس کی منظوری درکار ہوتی ہے، جس کے لیے دو ماہ کی آئینی مدت مقرر کی گئی ہے۔
اسی لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کیے جانے کے باوجود یہ ضروری نہیں کہ مشترکہ اجلاس بھی اسی روز منعقد ہو یا ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق قراردادوں پر اسی روز ووٹنگ ہو۔
پارلیمنٹ کے اجلاس کیوں اہم ہیں؟
قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس ایسے وقت میں طلب کیے گئے ہیں جب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر سیاسی اختلافات جاری ہیں۔
وفاقی حکومت ان اقدامات کو صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور انتظامی مسائل سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دیتی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف انہیں صوبائی خودمختاری اور منتخب حکومت کے اختیارات کے خلاف اقدام قرار دے رہی ہے۔



