سینیٹر فیصل واوڈا نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سیاسی قوت کے طور پر ختم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ “اب تماشا ختم ہو چکا ہے۔” انہوں نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں نئے انتظامی بندوبست کے تحت ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ پی ٹی آئی تقسیم ہو چکی ہے اور سیاسی طور پر اس کی حیثیت بالکل ختم ہو چکی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے سیاسی معاملات سے متعلق ایک وسیع تر سلسلے کی پہلی قسط جاری ہونے کے بعد مزید قسطیں بھی سامنے آئیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں عمران خان کو ایسے لوگوں سے بچانا چاہتا تھا جو ان کا نام بیچتے تھے، لیکن میں کامیاب نہ ہو سکا۔ پی ٹی آئی والے دوستوں کو کہتا ہوں کہ وہ کسی پارٹی میں جائیں، نئی پارٹی بنائیں اب پی ٹی آئی ختم ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا عوام کا صوبہ ہے ، کسی کی جاگیر نہیں، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ صوبے کے عوام کے مفاد میں ہے۔ قومی ترانے اور پرچم کی بے حرمتی کرنے والوں کو عوام عبرت کا نشان بنائیں۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کا مقصد لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، خیبر پختونخوا میں دیرپا امن کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ملکر کام کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں، اور آپ من مانیاں کرتے پھریں، ایسا نہیں ہو سکتا، خیبر پختونخوا میں گزشتہ 2 سال میں 95 فیصد دہشتگردی بڑھی ،ہر صورت پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ کے پی کی 13 سال کی حکومت کی کارکردگی دیکھ لیں، تباہی ہی تباہی ہے، پوری امید ہے گورنر خیبر پختونخوا کام کرکے دکھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سے بڑا کوئی نہیں، پی ٹی آئی والے کہتے تھے لیڈر نہیں ہو گا تو پاکستان نہیں ہو گا۔ پی ٹی آئی کے جھوٹے نعرے عوام کے سامنے بے نقاب ہو گئے، پاکستان کی کہانی اپنے بچوں کو سنائیں گے ، پہلا پارٹ ریلیز ہو گیا، ابھی پارٹ ٹو ، پارٹ تھری اور پارٹ فور آنے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 60 دن کے اندر نتائج نظر آنا شروع ہو جائیں گے، گورنر فیصل کریم کنڈی کو واضح کہتا ہوں اب ناکامی کا کوئی آپشن نہیں، پاکستان کی ترقی میں صدر آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان ہمارے ساتھ ہونگے۔ خیبر پختونخوا کے ذریعے ہم ری بوٹ یا ری اسٹارٹ کے آپشن دیکھ رہے ہیں۔ سپہ سالار نے جو ہمیں کامیابی دی، ان کی اور شہدا کی قدر کرنا ہو گی، امید ہے گورنر فیصل کریم کنڈی کام کر کے دکھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں جمہورے، جمہوروں کو تبدیل کرنا پڑے گا، خیبر پختونخوا میں جمہورے اپنے آئے ہیں، اگر ہمیں رزلٹ ملا، اور جمہوریت کے اندر اچھے لوگ آتے ہیں، ہمیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کابینہ کے لوگ میرے ساتھ اسلام آباد میں موجود تھے، سمگل گاڑیوں کے معاملے پر بھی ان میں لڑائیاں ہو رہی ہیں، گرفتاری کرانے کے لیے سب خود سامنے آئے، پیسوں کا ان کا جھگڑا چل رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے سیاسی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سیاسی رہنماؤں کی صلاحیتوں اور طرزِ قیادت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستان یا کسی صوبے کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھے۔ قومی پرچم، قومی ترانے اور ریاستی اداروں کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی ان کے پرانے دوست ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ صوبے میں عوامی مسائل کے حل، امن و امان کی بہتری اور انتظامی کارکردگی کے حوالے سے نتائج دیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے انتظامی بندوبست میں ناکامی کا کوئی متبادل نہیں ہونا چاہیے اور اگر موجودہ ٹیم مطلوبہ نتائج نہ دے سکی تو اس سے بہتر کارکردگی دکھانے والے افراد کو موقع دیا جانا چاہیے۔ کابینہ میں شامل افراد کی صلاحیتوں کا فیصلہ ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ہو گا نہ کہ ان کے نام یا ظاہری حیثیت پر۔
انہوں نے بعض سیاسی عناصر پر دہشتگردی کے معاملے میں دوہرے معیار اپنانے کا الزام بھی عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سیاسی شخصیت یا جماعت دہشتگردی کے خلاف مؤثر مؤقف اختیار نہیں کرتی تو اس سے سوالات کیے جانے چاہییں۔ تاہم انہوں نے کسی بھی فرد یا جماعت کے خلاف ان الزامات سے متعلق پریس کانفرنس میں قابلِ تصدیق شواہد پیش نہیں کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں میں ایسے افراد بھی موجود ہو سکتے ہیں جو پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، لیکن جو لوگ قانون کی خلاف ورزی یا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں، ان کے خلاف شواہد کی بنیاد پر کارروائی ہونی چاہیے۔
فیصل واوڈا نے مذاکرات اور بعض گرفتاریوں کے پس منظر سے متعلق بھی دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں بعض سیاسی شخصیات اور رہنماؤں سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں، جبکہ بعض مذاکرات میں حکومتی اور سیاسی حلقوں کے افراد بھی شامل تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض سیاسی معاملات میں پس پردہ رابطے اور مذاکرات جاری رہے اور ان کے مطابق گرفتاریوں اور دیگر واقعات کے پیچھے بھی مختلف عوامل کارفرما تھے۔ سیاسی، ریاستی اور معاشی معاملات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔
فیصل واوڈا نے بلوچستان کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں سیاسی تعاون ضروری ہے اور قومی سلامتی کے معاملات پر اختلافات کو مؤثر اقدامات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں 180 روزہ انتظامی بندوبست کو کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جائے گا اور عوامی توقعات پر پورا نہ اترنے والوں کو تبدیل کرنے کا راستہ کھلا رہنا چاہیے۔



