پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی دونوں ملکوں کے دیرینہ دفاعی تعلقات کا حصہ ہے جبکہ مکہ معاہدے کا مقصد سعودی عرب اور حرمین شریفین کا دفاع کرنا ہے اور وہ کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ باتیں سی این این کے نامہ نگار آئیون واٹسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہیں، واٹسن نے اس انٹرویو کا ایک مختصر کلپ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا ہے۔
انٹرویو کے دوران لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان اب بھی امریکا اور ایران کی جنگ میں غیر جانب دار کردار ادا کرسکتا ہے، جبکہ ماضی میں ایران سعودی عرب کو نشانہ بنا چکا ہے، مکہ اتحاد بھی موجود ہے اور اب ایران کے اتحادی حوثی بھی سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں؟
Can Pakistan play a neutral mediator role in the US-Iran war when Iran & Iran-backed Houthis have repeatedly attacked Pakistan’s treaty ally Saudi Arabia?
My question to #Pakistan military spokesman Lt Gen Ahmed Chaudhry
Reporting with @SophiaSaifi
https://t.co/ayrjliwVCG https://t.co/x9JNpqdRZm
— Ivan Watson (@IvanCNN) October 9, 2026
جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک ملک پر حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس تعاون کا مقصد کسی ملک کو دشمن قرار دینا نہیں بلکہ سعودی عرب اور حرمین شریفین کا دفاع کرنا ہے اور اس کا دفاع کیا جائے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کا مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل چاہتا ہے اور فریقین کے اختلافات کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ جنگ مزید پھیلے یا اس کی شدت میں اضافہ ہو، کیونکہ اس سے کسی فریق کو بھی فائدہ نہیں ہوگا۔
ایران، اسرائیل اور امریکا کے حملوں اور خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے تنازعات کے تناظر میں پاکستان کے ثالثی کے کردار پر سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد ایک دیانت دار ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کی مذمت کی، اسی طرح ایران کی جانب سے عرب اور خلیجی ممالک پر حملوں کی بھی کھل کر مخالفت کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ ”ہم سب کو بتاتے رہیں گے کہ جنگ پھیلنے میں کسی کا بھی فائدہ نہیں ہے“۔
’فوجی دستوں کو کب اور کیسے استعمال کیا جائے گا،آپ خود دیکھ لیں گے‘
لیفٹیننٹ جنرل شریف چوہدری مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ”میں یہ (تعداد) کنفرم نہیں کر سکتا مگر میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ پاکستانی فوج پہلے سے وہاں(سعودی عرب میں) موجود ہے، ہمارے فوجی دستے دہائیوں سے وہاں ہیں۔“
سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی وژن نے بھی آج (جمعہ کو) ایکس پر انٹرویو کا ایک طویل کلپ پوسٹ کیا، جس میں فوج کے ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے سوالات دراصل فوجی دستوں کو عملی طور پر استعمال کرنے کے معاملے سے متعلق ہیں۔
@OfficialDGISPR
#PakistanSaudiArabia #DGISPR #Türkiye #DefenceCooperation #PakistanTV— Pakistan TV (@PakTVGlobal) October 9, 2026
انہوں نے کہا کہ ”مکہ معاہدے پر عمل درآمد اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے اقدامات کا دائرہ مکمل طور پر دفاعی ہوگا۔ شراکت دار ممالک اور اصولوں کے حوالے سے یہی اتفاق ہوا ہے اور اس معاہدے پر عمل درآمد بھی اسی انداز میں ہوگا۔“
ان کا کہنا تھا کہ ”یہ کیسے ہوگا، کون سا دستہ وہاں جائے گا اور اسے کس طرح استعمال کیا جائے گا، اس کا فیصلہ آپریشنل کمانڈر کرے گا۔ چونکہ یہ ایک فوجی تنازع ہے، اس لیے کوئی بھی شریک ملک یہ بتانا شروع نہیں کردیتا کہ وہ اپنی فوج کہاں اور کیسے تعینات کرے گا۔“
انہوں نے مزید کہا، ’’ انہیں (فوجی دستوں کو) کب اور کیسے استعمال کیا جائے گا، یہ آپ خود دیکھ لیں گے۔‘‘ تاہم، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے وضاحت کی کہ ان فوجی دستوں کا کردار ”دفاعی نوعیت کا ہوگا“۔
لیفٹیننٹ جنرل شریف چوہدری نے کہا کہ ”اس طرح کسی دوسرے ملک کے خلاف کوئی بھی شرارت کرنے کا سوچنے والا شخص امید ہے کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے دو بار، تین بار یا کئی بار سوچے گا اور اس طرح کسی تباہ کن واقعے کو رونما ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔ اجتماعی دفاعی صلاحیت کی حامل قوت اسی طرح کام کرتی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی معاہدے کا مقصد سعودی عرب اور حرمین شریفین کا دفاع کرنا ہے اور وہ کیا جائے گا۔
ترجمان پاک فوج کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ بھی ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے جبکہ اسلام آباد اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان رواں سال 7 اگست کو طے پانے والے دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت اور ممکنہ حملوں کو روکنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ ان میں سے کسی ایک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے۔
5 اکتوبر کو ریاض میں اتحاد کے ہنگامی اجلاس کے دوران تینوں ممالک نے ہنگامی صورتِ حال میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی پر اتفاق کیا تھا۔
