وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اقدام سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا، اس کی 200 فیصد ضرورت تھی، اور اگر اب یہ قدم نہ اٹھایا جاتا تو مزید نقصان ہوتا۔
ہم نیوز کے پروگرام “فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 13 سال خیبرپختونخوا میں حکمرانی کی، لیکن صوبائی حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف کبھی کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے رہنما شہدا کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ جب خون بہہ رہا ہو اور بند باندھنے والا کوئی نہ ہو تو کب تک صورت حال برداشت کی جاسکتی ہے؟
وزیر دفاع نے کہا کہ وفاقی حکومت نہیں چاہتی تھی کہ معاملہ یہاں تک پہنچے، لیکن صوبے کی صورت حال کے پیش نظر اقدام کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ وفاقی حکومت نے معاملات حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، تاہم پی ٹی آئی قیادت نے صورت حال اس نہج پر پہنچا دی تھی کہ حکومت کے پاس سکیورٹی بنیادوں پر اقدام کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور بعض دیگر افراد کی جانب سے ملک مخالف زبان استعمال کی جا رہی تھی، جبکہ دہشت گردی اور افغانستان سے متعلق بھی صوبائی حکومت کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض عناصر دہشت گردوں کے اتحادی بن گئے تھے اور انہیں صوبائی خزانے سے حصہ دیا جا رہا تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت اس حوالے سے ضروری اقدامات نہیں کر رہی تھی۔ سہیل آفریدی اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا موازنہ کیا جاسکتا ہے۔
سکیورٹی فورسز کی قربانیوں پر انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ تاہم اب یہ جنگ نتیجہ خیز ہوگی، چاہے اسے زمین پر لڑنا پڑے یا فضاؤں میں۔ حکومت جنگ کو ایسے مرحلے تک لے جائے گی جس کے نتائج پاکستان کے حق میں ہوں اور ملک میں امن قائم ہوسکے۔
‘پاکستان کیخلاف ہتھیار اٹھانا قابل قبول نہیں ہو سکتا’
وزیر دفاع نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت پر باقاعدہ مسلح حملے ہوتے رہے ہیں۔ کیا دنیا کے کسی اور ملک میں کسی سیاسی جماعت نے اس طرح مسلح حملے کیے ہیں؟ کسی ایک شخص کے مطالبات کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانا قابل قبول نہیں ہوسکتا۔
بانی پی ٹی آئی کے دور حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان بطور وزیراعظم دو مرتبہ افغانستان گئے تھے اور انہوں نے بارڈر کنٹرول کے لیے 10 ارب روپے دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ تحریک انصاف کے دور میں دہشت گردوں کو واپس کون لایا؟
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے وزیراعظم ہوتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کردیا تھا۔ اور مولانا فضل الرحمان سمجھتے تھے کہ وہ ایسا کردار ادا کرسکتے ہیں جسے پی ٹی آئی قبول کر لے، لیکن عین اسی وقت سہیل آفریدی کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات سامنے آرہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی اور انتظامی عمل جاری رہے گا اور بہت جلد حالات بہتر ہوں گے۔ صوبے میں پائیدار امن قائم کیا جائے گا تاکہ اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔


