خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال، انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی، صوبائی خودمختاری اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاجی مارچ پر وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان جاری کشیدگی بالآخر خیبرپختوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کے نتیجے میں صوبائی انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہوگئے۔
یہ فیصلہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ کئی ہفتوں سے جاری سیاسی اور انتظامی اختلافات، دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا۔
وفاقی حکومت نے اقدام کو امن و امان کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کے لیے ضروری قرار دیا جبکہ پی ٹی آئی نے اسے سیاسی اقدام اور صوبائی خودمختاری کے خلاف قرار دیا۔
گورنر راج کی تردید سے وفاقی مداخلت تک
30 ستمبر کو وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کر چکے تھے کہ حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا اجلاس معمول کی پارلیمانی مشاورت تھا اور اس کا گورنر راج یا ایمرجنسی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
تاہم اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں وفاقی مداخلت کے امکانات پر بحث جاری رہی۔ اگلے 11 روز کے دوران سکیورٹی پالیسی، صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں، پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ اور عمران خان کی رہائی سے متعلق مطالبات پر اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے۔

11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دی۔ اس کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے انتظامی اختیارات سنبھال لیے جبکہ وفاقی حکومت نے مشاورتی کونسل اور متاثرہ اضلاع کے لیے الگ انتظامی سیکرٹریٹ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔
اگلی صبح پشاور میں اہم سڑکوں اور گورنر ہاؤس و کینٹ کی جانب جانے والے راستوں پر کنٹینر لگا دیے گئے۔ اس سے پہلے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے مارچ کو روکنے کے لیے کنٹینرز استعمال کیے گئے تھے جبکہ اب پشاور میں بھی احتجاج کے خدشے کے پیش نظر نقل و حرکت محدود اور سکیورٹی سخت کر دی گئی۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات
خیبرپختونخوا اور سابق قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات نے وفاق اور صوبے کے درمیان اختلافات کو مزید شدید کیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفیلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق صوبے میں جولائی میں 59، اگست میں 106 اور ستمبر میں 92 عسکریت پسند حملے ہوئے۔ یوں تین ماہ کے دوران حملوں کی مجموعی تعداد 257 رہی۔
18 ستمبر کو کوہاٹ کے اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران حملے میں 23 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 17 پولیس اہلکار شامل تھے۔ اس کے چند روز بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں ایک اور حملے کے نتیجے میں 14 افراد جان سے گئے۔

ان واقعات نے صوبے میں سکیورٹی انتظامات، پولیس کی استعداد اور انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر سوالات کو مزید اہم بنا دیا۔ تاہم وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلاف اس بات پر تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کون سی حکمت عملی اختیار کی جائے اور اس کے تعین کا اختیار کس کے پاس ہو۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مؤقف تھا کہ بار بار فوجی آپریشنز کے باوجود پائیدار امن قائم نہیں ہو سکا، اس لیے متاثرہ علاقوں کے عوام اور صوبائی حکومت کو سکیورٹی سے متعلق فیصلوں میں زیادہ مؤثر کردار دیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے صوبائی اداروں، وفاقی حکام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان بہتر تعاون ضروری ہے۔یوں اختلاف محض پالیسی تک محدود نہیں رہا بلکہ صوبائی ذمہ داریوں، اختیارات اور وفاقی مداخلت کے دائرہ کار کا تنازع بھی بن گیا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور وفاق آمنے سامنے
درازندہ حملے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے زخمی اہلکاروں کی عیادت کی اور سکیورٹی سے متعلق فیصلوں میں صوبائی حکومت کی زیادہ شمولیت کا مطالبہ دہرایا۔
ان کی حکومت کے مطابق پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو مضبوط بنانے کے لیے ترقیاتی اخراجات میں سے 35 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، سہیل آفریدی نے یہ الزام بھی لگایا کہ ادائیگی کے باوجود وفاقی اداروں کی جانب سے سکیورٹی آلات کی فراہمی میں تاخیر کی گئی۔
28 ستمبر کو صوبائی امن و امان سے متعلق اجلاس میں وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کو اضافی وسائل فراہم کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مجموعی حکمت عملی میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔
اس کے برعکس وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے صوبائی حکومت پر سکیورٹی اداروں کو مناسب قیادت، وسائل اور عملی تعاون فراہم نہ کرنے کے الزامات عائد کیے۔
وفاقی نمائندوں نے پی ٹی آئی کے صوبائی دور حکومت میں سکیورٹی فنڈز کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے اور الزام لگایا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ضروری فرانزک سہولیات، حفاظتی انفراسٹرکچر اور آلات کی فراہمی کے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے۔
صوبائی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ وفاقی پالیسیوں کے باعث صوبے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ان متضاد مؤقف نے دونوں حکومتوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید بڑھا دیا۔
عمران خان کی رہائی اور احتجاجی مارچ کا معاملہ
سکیورٹی پالیسی پر اختلافات کے ساتھ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی اور ان تک رسائی کا معاملہ بھی سیاسی کشیدگی میں اہم عنصر بن گیا۔
پی ٹی آئی مسلسل عمران خان سے اہل خانہ، وکلا اور ذاتی معالجین کی ملاقاتوں، ان کی صحت سے متعلق خدشات کے ازالے اور رہائی کا مطالبہ کرتی رہی۔ پارٹی کے لیے یہ مطالبات اس کی سیاسی مہم کا مرکزی حصہ تھے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور انتظامی مسائل کے پیش نظر صوبائی قیادت کو سیاسی احتجاج کے بجائے امن و امان اور سکیورٹی پر توجہ دینی چاہیے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی سہیل آفریدی سے اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ ترک کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ موجودہ حالات میں تصادم کے بجائے تعاون کی ضرورت ہے۔
تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے سیاسی مطالبات سے دستبردار نہیں ہو سکتی اور اسے احتجاج کا قانونی و سیاسی حق حاصل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مارچ 4 اکتوبر کو شروع ہوگا۔
اس ویڈیو کو دیکھ کر انتہائی افسوس ہوا ۔ کہ ہمرا وزیر اعلی دھشت گردی کے حوالے سے کتنا سیریس ہے؟
سہیل آفریدی سے سوال ہوا : آپ صوبے میں دھشت گردی کے خلاف کیا کررہے ہیں۔ ؟
جواب: اول گل پہ سہ دے ۔۔ او سیدا گل پہ سہ دے: مطلب ہم عمران خان کی رھائی کی تحریک چلانا چاہتے ہیں اور آپکو دھشت گردی کی پڑی ہوئی ہے۔
آج کوھاٹ میں دھشت گردی کا واقعہ ہوا مگر سہیل آفریدی مکمل خاموش بلکہ غائب ہے !
سہیل آفریدی قومی مجرم کے لئے احتجاجی تحریک چلا رہا ہے۔ مگر صوبے کے عوام کے لئے کوئی فکر نہیں !— سید عدنان بادشاہ 🇵🇰 (@syed_bacha) September 19, 2026
اسی دوران ایک صحافی کے ساتھ وزیراعلیٰ کی گفتگو بھی زیر بحث آئی، جس میں ان سے سوال کیا گیا کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے اور ترقیاتی امور پر توجہ دینی چاہیے یا عمران خان کی صحت پر۔ سہیل آفریدی نے جواب میں عمران خان کی صحت کو اہم معاملہ قرار دیا۔ اس گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی، تاہم اس کی ریکارڈنگ کی درست تاریخ واضح نہیں ہو سکی۔
یہ معاملہ اس بحث کا حصہ بن گیا کہ آیا صوبائی حکومت سیاسی سرگرمیوں اور انتظامی ذمہ داریوں کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھ رہی تھی۔ پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ سیاسی جدوجہد اور صوبائی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں۔
مذاکرات کی ناکامی نے بحران شدید کردیا
وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باوجود مذاکرات کے ذریعے تصادم روکنے کی کوشش کی گئی۔
اکتوبر کے ابتدائی دنوں میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی سہولت کاری میں پارلیمنٹ ہاؤس میں حکومتی اور اپوزیشن نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات میں عمران خان سے متعلق مطالبات کے ساتھ صوبائی حکومت کے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں تعاون کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
بات چیت 4 اکتوبر رات گئے تک جاری رہی تاہم دونوں فریق مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے رہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے الزام لگایا کہ مذاکرات کے دوران طے پانے والے سمجھوتے کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بعد میں اعتراضات اٹھا کر سبوتاژ کیا۔ ان کے مطابق مجوزہ معاہدے میں صوبائی حکومت کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون، قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد اور عسکریت پسند تنظیموں کے حوالے سے اقدامات شامل تھے۔
پی ٹی آئی نے اس مؤقف کو مسترد کیا، پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے مطابق اختلاف اس بات پر تھا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کس انداز میں کیا جائے۔
پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ نئی سکیورٹی حکمت عملی وفاق اور صوبے کی مشترکہ مشاورت سے تیار ہو اور اس عمل میں سیاسی نمائندوں اور قبائلی عمائدین کو بھی شامل کیا جائے، پارٹی نے عمران خان سے ان کے اہل خانہ، وکلا اور ذاتی معالجین کی ملاقاتوں کو بھی مذاکرات کا اہم مطالبہ قرار دیا۔
مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ نہ ہونے کے بعد سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کو لکی مروت سے مارچ کا آغاز کیا۔
اس کے بعد صوبائی حکومت اور گورنر کے درمیان اختیارات کا تنازع بھی نمایاں ہونے لگا، گورنر فیصل کریم کنڈی نے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ حکام کا اجلاس بلایا تو وزیراعلیٰ نے اس اقدام کے آئینی جواز پر سوال اٹھایا۔ گورنر کا مؤقف تھا کہ صوبے کے حالات ایسے ہیں کہ سیاسی اختلافات سے قطع نظر سکیورٹی معاملات پر توجہ دینا ضروری ہے۔
یوں اختلافات نے پالیسی اور سیاسی ترجیحات سے آگے بڑھ کر صوبے میں انتظامی اختیار کے سوال کو بھی جنم دیا۔
11 اکتوبر: وفاقی حکومت کا فیصلہ کن اقدام
مارچ جاری رہنے اور مذاکرات ناکام ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں آئینی اقدامات پر غور تیز کر دیا۔
10 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری سے مشاورت کی، جس کے بعد وفاقی کابینہ نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ کابینہ کی جانب سے جاری مؤقف میں صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم کے مشورے پر آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دے دی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے حکومتی مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اقدام کا بنیادی مقصد بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر قابو پانا، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانا اور شہریوں کو دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
حکومت نے صوبائی انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل کرنے، 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کرنے اور سکیورٹی بحران سے متاثرہ 12 اضلاع کے امور کے لیے الگ سیکرٹریٹ بنانے کا اعلان کیا۔ وفاقی حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد انتظامی رابطہ بہتر بنانا اور متاثرہ علاقوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا تھا۔
قانونی و انتظامی اعتبار سے دونوں آئینی دفعات کا مقصد مختلف ہے، آرٹیکل 232 غیر معمولی داخلی بدامنی یا قومی سلامتی کے لیے خطرے کی صورت میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے جبکہ آرٹیکل 234 اس صورت میں صوبائی انتظامی اختیارات وفاقی سطح پر منتقل کرنے کی گنجائش دیتا ہے جب صدر اس نتیجے پر پہنچے کہ صوبے میں آئینی نظام کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہیں رہا۔
گورنر راج کے بعد صوبہ کیسے چلے گا؟
وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کے انتظامی امور سنبھال لیے ہیں اور 11 رکنی مشاورتی کونسل ان کی معاونت کرے گی۔ مزید برآں 12 اضلاع کے انتظامی معاملات کے لیے الگ سیکرٹریٹ قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
قانونی طور پر گورنر راج کے تحت صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کے ذریعے استعمال کیے جا سکتے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات بھی آئین میں درج شرائط کے مطابق پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کیے جا سکتے ہیں تاہم اس اقدام کے قانونی دائرہ کار، مدت اور پارلیمانی منظوری کے معاملات آئینی طریقہ کار سے مشروط رہتے ہیں۔

وفاقی حکومت نے گورنر راج کے انتظام کو ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ آئین کے تحت آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی مدت اور توسیع کے لیے پارلیمانی منظوری سے متعلق شرائط لاگو ہوتی ہیں۔ اسی طرح ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی مقررہ آئینی مدت میں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔
پی ٹی آئی کا ردعمل اور صوبائی خودمختاری کا سوال
پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کے اقدام کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور اسے صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف اقدام قرار دیا۔
پارٹی کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کو صوبائی حکومت کے اختیارات محدود کرنے کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی یہ بھی کہتی رہی ہے کہ مؤثر انسداد دہشت گردی کے لیے وفاقی حکومت کو صوبے کے ساتھ وسائل، پالیسی اور عملی اقدامات کے حوالے سے تعاون کرنا چاہیے۔
اس کے برعکس وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور صوبائی انتظامیہ کی جانب سے ناکافی تعاون کے باعث غیر معمولی آئینی اقدامات ناگزیر ہو گئے تھے۔
12 اکتوبر کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد شہریوں کا تحفظ ہے نہ کہ کسی سیاسی جماعت کو نشانہ بنانا۔
دریں اثنا پشاور میں اہم راستوں پر کنٹینرز لگائے گئے، سکیورٹی سخت کی گئی اور احتجاج کے خدشات کے پیش نظر انتظامات کیے گئے، بعض علاقوں میں اسکولوں کی بندش اور نقل و حرکت پر پابندیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
بنیادی سوال بدستور موجود
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے پیچھے کئی عوامل کارفرما رہے، ان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر اختلافات، صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان اختیارات کا تنازع، عمران خان کی رہائی کے مطالبات اور احتجاجی مارچ روکنے کے لیے مذاکرات کی ناکامی شامل ہے۔
وفاقی حکومت اس اقدام کو امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری قرار دیتی ہے جبکہ پی ٹی آئی اسے سیاسی محاذ آرائی اور صوبائی خودمختاری میں مداخلت سمجھتی ہے۔
اس فیصلے نے نہ صرف خیبرپختونخوا کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کیا بلکہ وفاق اور صوبے کے تعلقات، انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی اور منتخب حکومت کے اختیارات سے متعلق اہم آئینی سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا وفاقی مداخلت سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکے گی اور کیا اس اقدام کے نتیجے میں وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی و انتظامی اختلافات کم ہوں گے یا مزید شدت اختیار کریں گے؟
