سعودی فوجی اتحاد نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر داغے گئے مزید 3 بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی عرب کی سول ڈیفنس کے مطابق یمن کے حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل سعودی فضائی دفاع نے فضا میں ہی روک کر تباہ کردیا، تاہم میزائل کے ملبے کے ٹکڑے گرنے سے دارالحکومت میں ایک بچوں کے اسکول اور میڈیکل کلینک کمپلیکس کو نقصان پہنچا۔
سعودی سول ڈیفنس کے ترجمان کے مطابق ریاض میں فضائی دفاع کی جانب سے بیلسٹک میزائل کو روکنے اور تباہ کرنے کے بعد اس کے ملبے کے گرنے کی اطلاع پر سول ڈیفنس ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور ایسے واقعات کے لیے مقررہ حفاظتی کارروائیاں مکمل کی گئیں۔
سعودی حکام کے بیان میں اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
تین میزائل تباہ کیے، سعودی فوجی اتحاد
رائٹرز کے مطابق سعودی فوجی اتحاد نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر داغے گئے مزید 3 بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بیان میں کہا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے خمیس مشیط کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل سعودی دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا۔
ترجمان کے مطابق حوثی ملیشیا نے ریاض کی جانب بھی 2 بیلسٹک میزائل داغے، جنہیں سعودی عرب کے دفاعی نظام نے تباہ کردیا۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب آنے والے میزائلوں کو بروقت نشانہ بنا کر خطرہ ٹال دیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان کے میزائل نے ائیر پورٹ کو نشانہ بنایا اور فضائی ٹریفک متاثر ہوئی تاہم سعودی حکام نے فوری طور پر ائیر پورٹ پر براہ راست میزائل لگنے کی تصدیق نہیں کی۔
ریاض ایئرپورٹ کی صورتحال
رائٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ ریاض ایئرپورٹ کے قریب دھماکوں کے بعد ایک کھڑے ہوئے طیارے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ تاہم طیارے کو نقصان پہنچنے کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی اور سعودی حکام نے حوثیوں کے براہ راست حملے کے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
ایئرپورٹ پر پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ہوا۔ رائٹرز کے مطابق کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے مسافروں کو روانگی سے قبل اپنی ایئرلائن سے پرواز کی صورتحال معلوم کرنے کا مشورہ دیا۔
حالیہ حملوں میں جانی نقصان بھی ہوا
عرب نیوز کے مطابق یہ حملہ سعودی عرب میں حوثیوں کی جانب سے حالیہ دنوں میں کیے جانے والے متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ہوا ہے، سعودی حکام کے مطابق اس سے قبل ریاض اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 3 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے تھے۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، فوجی تنصیبات اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی اپنی دھمکیوں اور حملوں کا ہدف بنایا ہے۔ حوثیوں کا مؤقف ہے کہ وہ یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کی کارروائیوں کے ردعمل میں سعودی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
یمن میں بھی لڑائی میں شدت
رائٹرز کے مطابق یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کی فورسز نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے نئی فوجی کارروائی شروع کی ہے، جس کے بعد سرحد پار میزائل اور ڈرون حملوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ اس صورتحال نے تنازع کو دوبارہ علاقائی سطح پر پھیلنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی حکام کے مطابق ریاض کی جانب آنے والے میزائل کو فضا میں ہی تباہ کردیا گیا جبکہ اس کے ملبے سے اسکول اور میڈیکل کلینک کو نقصان پہنچا، حوثیوں نے ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے لیکن سعودی حکام نے تاحال ایئرپورٹ پر براہ راست میزائل لگنے کی تصدیق نہیں کی۔



