مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل کردیں۔
پروازوں کی عارضی طور پر معطلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے ریاض اور ابہا کے ائیرپورٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ “جمعرات 8 اکتوبرکو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو حملے کیے گئے، جس میں تین سعودی شہری شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے، پہلے حملے میں ایئرپورٹ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسرے حملے کا ہدف سعودی ایئرلائنز کا ایک طیارہ تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تصدیق شدہ ویڈیو میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے آگ کے شعلے اور سیاہ دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔
حوثی گروپ نے ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے توانائی کی تنصیبات پر مزید حملوں کی دھمکی دی اور کارکنوں کو بجلی گھروں اور دیگر تنصیبات سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بتایا کہ ریاض کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا گیا جبکہ خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک اور میزائل بھی روکا گیا۔ خمیس مشیط میں ایک اہم فضائی اڈہ موجود ہے۔
واضح رہے آج ہی پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی حمایت کا مکمل اعادہ کیا تھا۔
موجودہ صورتحال کے باعث پی آئی اے کے ترجمان نے جاری بیان میں مسافروں سے کہا ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے قبل ایئرلائن کے کال سینٹر سے رابطہ کرکے اپنی پرواز کی تازہ صورتحال معلوم کریں۔
ترجمان کے مطابق مسافر پروازوں سے متعلق معلومات کے لیے پی آئی اے کے کال سینٹر نمبر 786-786-111پر رابطہ کرسکتے ہیں۔
ایئرلائن نے پروازوں کی عارضی معطلی کے باعث مسافروں کو ہونے والی پریشانی پر معذرت بھی کی ہے۔ تاہم پی آئی اے نے یہ واضح نہیں کیا کہ ریاض کے لیے پروازیں کب تک معطل رہیں گی۔
پی آئی اے کے علاوہ جرمن ایئرلائن لفتھانسا اور بھارتی ایئرلائن ایئر انڈیا نے بھی ریاض کے لیے پروازیں معطل کردی ہیں، فضائی سفر کے تجزیاتی ادارے سیریم کے مطابق گزشتہ روز جمعرات کی سہ پہر 3 بجے تک ریاض ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والی تقریباً نصف پروازیں منسوخ ہوچکی تھیں۔


