خیبر پختونخوا پولیس نے ہنگامہ آرائی اور احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے تحریری آپریشنل ہدایات جاری کر دیں۔
خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ گزشتہ سات روز سے جاری ہے۔ لکی مروت سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں شروع ہونے والا لانگ مارچ مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا آج رات مردان میں قیام کرے گا۔ جس کے بعد اتوار کو صوابی پہنچیں گے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری کردہ آپریشنل ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے میں ملوث عناصر سے قانون کے مطابق انتہائی سختی سے نمٹا جائے گا۔
پولیس کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران سرکاری تنصیبات، عمارتوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ امن و امان میں خلل ڈالنے، سکیورٹی فورسز یا عمارتوں پر حملے کرنے اور شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر قانونی اجتماعات، پُرتشدد سرگرمیوں اور اشتعال انگیزی کا حصہ بننے سے گریز کریں۔ شہریوں کو پُرامن رہنے، قانون کی پاسداری کرنے اور شرپسند عناصر کے بہکاوے میں نہ آنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
آپریشنل ہدایات کے تحت پولیس اسٹیشنز، سرکاری عمارتوں، بینکوں، پیٹرول پمپس، تجارتی مراکز اور اہم شاہراہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔
پولیس کے مطابق احتجاجی مظاہروں اور متعلقہ کارروائیوں کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جائے گی تاکہ ضرورت پڑنے پر شواہد کی مدد سے قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔
ہدایات میں مزید کہا گیا ہے کہ احتجاجی صورت حال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھی جائے گی۔
خیبرپختونخوا کی صورتحال پر وفاقی کابینہ اجلاس
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کی صبح ساڑھے 9 بجے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا، جس میں خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے مختلف آئینی آپشنز پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کی صورتحال سے متعلق مختلف آئینی اقدامات پر مشاورت جاری ہے، جبکہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں صوبے کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ممکنہ آئینی آپشنز کا جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی زیرِ قیادت صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی کے باعث صوبے میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے معاملے پر بھی سیاسی سطح پر بحث جاری ہے۔ تاہم، تاحال کسی مخصوص آئینی اقدام کے نفاذ کا حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔
12 اضلاع میں ایمرجنسی کا نفاذ زیرغور
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کر رہی ہے، جن میں سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے تمام ضم شدہ اضلاع بھی شامل ہیں۔
مجوزہ اقدامات پر غور کی وجوہات میں سکیورٹی خدشات اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے صوبائی حکومت کی حکمت عملی سے متعلق تحفظات شامل ہیں۔
تاہم ان اطلاعات کی تاحال کسی سرکاری اعلان کے ذریعے تصدیق نہیں کی گئی کہ صوبے کے کسی حصے میں ایمرجنسی نافذ کرنے یا گورنر راج لگانے کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔



