متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے اسرائیل جانے والے مسافر طیارے کے پائلٹس میں جھگڑا ہوگیا جس کے بعد طیارے نے سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز نے پائلٹس کے درمیان مبینہ جھگڑے کے بعد ہنگامی سگنلز بھیجے اور رخ موڑ کر سعودی عرب کا راستہ اختیار کرلیا۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 نے اردن کی فضائی حدود کے اوپر سے اپنا رخ سعودی عرب کی جانب موڑ لیا۔
Timeline of flight #FZ1073 — all times UTC:
03:05 — Take off from Dubai International Airport
05:31 — Squawk changed to 7700
05:38 — Squawk changed to 7500
06:11 — Aircraft left Flightradar24 ground-based coverage
06:28 — Squawk 7700 received via satellite
06:58 — Last signal… pic.twitter.com/ChlUs4kRDU— Flightradar24 (@flightradar24) September 30, 2026
طیارے نے پہلے عمومی ہنگامی سگنل بھیجا جس کے چند منٹ بعد ایک اور ہنگامی سگنل بھیجا گیا جس سے ممکنہ غیر قانونی مداخلت کا خدشہ ظاہر ہوا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بوئنگ 737 طیارے میں تقریباً 150 اسرائیلی مسافر سوار تھے۔فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق طیارے نے بعد میں دوبارہ عمومی ہنگامی سگنل بھیجا اور کچھ دیر بعد شمال مغربی سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر لینڈ کرگیا۔
فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق طیارے کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے ہنگامی سگنل سے قبل طیارہ 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اچانک تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آیا۔
اس واقعے نے اس فضائی راستے کے ممکنہ خطرات کو بھی نمایاں کیا ہے جو چھ سال قبل متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے بعد اسرائیلی شہریوں میں مقبول ہوا ہے۔
DRAMATIC FOOTAGE: An Israeli passenger aboard the Flydubai flight recorded this video:
“We’ve now subdued the terrorists. We’re about to land. Anyone who can hear me, we need help. We’re descending into Tabuk, apparently somewhere in Saudi Arabia, an unfamiliar, unknown area.… pic.twitter.com/jmGhwcMLde
— Israel War Room (@IsraelWarRoom) September 30, 2026
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان ڈورون اسپیل مین نے رائٹرز کو بتایا کہ واقعے کو ہائی جیکنگ نہیں سمجھا جارہا، بلکہ انہوں نے اسے ’ایک مختلف نوعیت کا واقعہ‘ قرار دیا۔
ایئرلائن کے ترجمان نے بتایا کہ تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو دورانِ سفر ایک ’واقعے‘ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اسے تبوک کی جانب موڑ دیا گیا جہاں طیارہ بحفاظت لینڈ کرگیا۔ ترجمان کے مطابق تمام مسافر محفوظ ہیں تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ پائلٹس کے درمیان جھگڑے کے بعد ہنگامی سگنلز بھیجے گئے تھے۔یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ آیا دونوں میں سے کسی پائلٹ نے جان بوجھ کر ہنگامی سگنلز بھیجے تھے۔
پرواز میں سوار مسافر میریام کی والدہ یاسمین ابو کاسیس نے بتایا کہ ان کی بیٹی کے مطابق اس نے طیارے میں چیخ و پکار سنی اور ایک شخص کو چاقو تھامے دیکھا، جس نے ایک پائلٹ کو فرش پر گرا دیا تھا۔ ان کے مطابق ہر طرف خون تھا۔
נוסעת בטיסת פליי דובאי: ״הישראלים ניטרלו את דוקר הטייס, צעקתי שמע ישראל כי חשבתי שלא נצא מפה״ pic.twitter.com/uNemz9Um6R
— זמן אמת (@zmanemet308) September 30, 2026
اسرائیلی میڈیا نے ایک تصویر شائع کی جو مبینہ طور پر طیارے کے اندر سے لی گئی تھی اور اس میں ایک مسافر کی خون آلود قمیض دکھائی دے رہی تھی۔رائٹرز فوری طور پر اس تصویر کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔
🚨🇮🇱🇦🇪 UPDATE:
Israel is treating the incident aboard FlyDubai flight FZ1073 this AM as a TERRORIST ATTACK!
The co-pilot apparently STABBED the captain of the plane mid-flight, repeatedly…
Crew members and passengers then managed to break down the cockpit door and subdue the… https://t.co/3HygQgj4Zr pic.twitter.com/zA2M8uCRoi
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) September 30, 2026
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ صورتحال ’قابو میں ہے‘ اور اسرائیلی مسافروں کو وطن واپس لانے کے لیے تمام اقدامات کیے جارہے ہیں۔
واضح رہے کہ فلائی دبئی دبئی اور تل ابیب کے درمیان روزانہ آمدورفت کی پروازیں چلاتی ہے اور یہ راستہ اسرائیلی شہریوں میں مقبول ہے۔پرواز کا معمول کا راستہ سعودی عرب اور اردن کی فضائی حدود سے گزرتا ہے۔
Footage of a plane landing in Saudi Arabia:
Passengers singing “Am Yisrael Chai” pic.twitter.com/WsO90ZxXeG
— Documenting Israel (@DocumentIsrael) September 30, 2026
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پرواز کا سعودی عرب میں اترنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ستمبر 2025 میں دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز نے طبی ہنگامی صورتحال کے باعث ریاض میں ہنگامی لینڈنگ کی تھی۔


