وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر میزائل حملوں میں شدت پیدا کردی ہے، جن کا ہدف مملکت کے ہوائی اڈے اور توانائی کی تنصیبات ہیں۔ جمعرات کو ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں سعودی فضائی کمپنی کے ایک طیارے کو آگ لگنے سے شدید نقصان پہنچا، جبکہ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس ہفتے حملوں میں 3 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
#الدفاع_المدني : سقوط شظايا نتيجة اعتراض صاروخ باليستي في مدينة الرياض نتج عنه أضرار مادية بروضة أطفال ومجمع عيادات طبية. https://t.co/j5OMn6YIZc
— الدفاع المدني السعودي (@SaudiDCD) October 8, 2026
رائٹرز کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرنے کے ساتھ ساتھ توانائی کی تنصیبات پر بھی حملے کرنے کی دھمکی ہے۔
اس سے قبل حوثیوں نے ریاض اور ابہا ایئرپورٹس کے ساتھ ساتھ خمیس مشیط ایئر بیس کو بھی ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی کیساتھ ساتھ سعودی مسلح افواج اور یمن میں سرگرم اتحادی فوج کی جانب سے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مستعدی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے بے گناہ شہریوں کی جانیں بچانے اور سعودی عرب کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ ان کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اس کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
I strongly condemn the repeated terrorist attacks by the Houthi militia against the Kingdom of Saudi Arabia, including the targeting of King Khalid International Airport in Riyadh and Abha International Airport, which resulted in loss of lives and injuries to civilians.
I commend the vigilance and professionalism of the Saudi armed forces and the Coalition in intercepting multiple ballistic missiles and their tireless efforts to protect innocent lives and safeguard the Kingdom.
Pakistan stands in unwavering solidarity with the leadership and people of our brotherly Kingdom of Saudi Arabia. In line with the Makkah Joint Defence Agreement, and recent decisions taken by its Strategic Political and Defense Committee, our commitment to the Kingdom’s sovereignty, territorial integrity and security is resolute. We also fully support Saudi Arabia’s legitimate right to defend its people and protect its cities and vital infrastructure.
The Houthi militia must immediately cease these attacks. We will continue to stand shoulder to shoulder with Saudi Arabia in the face of these threats.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 9, 2026
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کو اپنے عوام، شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کا جائز حق حاصل ہونے کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ شہباز شریف نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے اور کہا کہ پاکستان ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
ریاض میں پروازیں متاثر، دفاتر بند
رائٹرز نے ایوی ایشن ادارے سیریم کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ حوثی حملے کے بعد جمعرات سہ پہر 3 بجے تک ریاض ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والی تقریباً نصف پروازیں منسوخ ہوچکی تھیں۔ سعودی عرب کے تمام ہوائی اڈوں پر جمعے کے لیے مزید 31 پروازیں منسوخ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جمعرات کو آمد اور روانگی کی متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں کو سفر کے لیے روانہ ہونے سے پہلے اپنی ایئرلائن سے پرواز کی صورتحال معلوم کرنے کی ہدایت کی۔
التحالف:
اعتراض وتدمير صاروخ باليستي أطلقته الميليشيا الحوثية الإرهابية باتجاه خميس مشيط.
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 8, 2026
ریاض میں قائم کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں موجود متعدد بین الاقوامی کمپنیوں نے جمعرات کی صبح زور دار دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دینے کے بعد اپنے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کی۔ معاملے سے واقف 5 افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ ان میں بعض متاثرہ ملازمین بھی شامل تھے۔
کچھ سفارت کاروں کے مطابق انہیں سکیورٹی وارننگز موصول ہوئیں، جبکہ ریاض کے بعض اسکولوں نے والدین کو بتایا کہ انہیں محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم حکام نے عوامی سطح پر کوئی وارننگ جاری نہیں کی۔ رائٹرز ان زور دار آوازوں کے ماخذ کی تصدیق نہیں کرسکا۔
ریاض میں رواں ہفتے توانائی پالیسی سے متعلق ایک بڑے اجلاس، ورلڈ پیٹرولیم کانگریس، کا انعقاد بھی ہونا ہے۔
جنگ میں شدت کے بعد اتحادیوں سے مدد
حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے اور سعودی شہروں و بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد سعودی عرب دوبارہ تنازع میں زیادہ سرگرم ہوگیا ہے۔ اس ہفتے سعودی حمایت یافتہ فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے باب المندب کے قریب بعض علاقے واپس لے لیے۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ یمن میں حکومتی فورسز کی حمایت کرنے پر سعودی عرب کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ ریاض یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے حوثیوں کے قبضے سے علاقے واپس لینے کی کارروائی کی حمایت کررہا ہے۔
یمن میں مختلف محاذوں پر جاری لڑائی کے دوران حوثیوں نے تعز شہر کے گرد بھی اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ انہوں نے تعز کو عدن سے ملانے والی مرکزی پہاڑی شاہراہ کے ساتھ علاقوں پر قبضہ کرکے شہر کا محاصرہ کرلیا ہے۔
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والی سعودی قیادت میں فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی کے باعث ملک میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق تنازع دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 2 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
سعودی عرب نے حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے اتحادی ممالک سے مدد طلب کی ہے، جن میں ترکیہ اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ یہ مدد لاجسٹک معاونت یا دفاعی صلاحیتوں تک محدود رکھنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔
