سعودی عرب کے دو اہم ایئرپورٹس پر حوثی حملوں کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 36 زخمی ہوگئے، زخمی ہونے والوں میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔
سعودی سول ایوی ایشن کے مطابق حوثی حملوں میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
سعودی سول ایوی ایشن کے مطابق ابہا ایئرپورٹ پر بھی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ دونوں ایئرپورٹس پر ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 36 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
#بيان بشأن استهداف مطاري أبها والملك خالد الدوليين.
#الطيران_المدني https://t.co/DN4I8WG2tG
— هيئة الطيران المدني (@ksagaca) October 7, 2026
زخمیوں میں پاکستانی شہری بھی شامل
سعودی سول ایوی ایشن کے مطابق حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے حملوں کے بعد صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق حوثی حملوں سے دونوں ایئرپورٹس اور ان کے اطراف میں املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
حملوں کے بعد ایئرپورٹس پر سکیورٹی مزید سخت کردی گئی جبکہ متعلقہ اداروں نے نقصانات اور واقعے سے متعلق مزید معلومات اکٹھی کرنا شروع کردی ہیں۔
التحالف:
عملية التدمير تمت في صنعاء أثناء التحضير لهجوم وشيك تجاه المملكة. https://t.co/NIqGlXsZ4p
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 7, 2026
یمن میں بیلسٹک میزائل لانچر بھی تباہ
دوسری جانب سعودی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن میں ریاض پر حملے میں استعمال ہونے والا بیلسٹک میزائل لانچر تباہ کردیا گیا ہے۔
سعودی اتحاد کے مطابق یمن میں کارروائی کے دوران اس بیلسٹک میزائل لانچر کو نشانہ بنایا گیا جسے ریاض پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
اتحاد کا کہنا ہے کہ میزائل حملوں کے خطرے سے نمٹنے اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
التحالف:
دمرنا منصة إطلاق الصواريخ الباليستية المستخدمة في اعتداء الرياض.
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 7, 2026
سعودی عرب کے ایئرپورٹس پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں اور مسافروں کے تحفظ کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ حملوں کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔



